سوال 7107
السلام علیکم مفتی صاحب
کیا کسی ایسے کلمات کی تعداد مقرر کرنا جو شریعت نے مقرر نہیں کی اور ہم اس کی تعداد مقرر کریں کیا یہ شریعت سازی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اس کی رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
ہماری معلومات کے مطابق اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ بس آپ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ جو بھی وظائف یا اذکار کریں، وہ قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔ اگر شریعت نے کسی ذکر کی خاص تعداد بتائی ہے، تو سنت کا ثواب پانے کے لیے اسی تعداد پر عمل کرنا بہتر ہے۔
لیکن اگر آپ اسے سنت کا حصہ سمجھے بغیر، اپنی سہولت یا کسی خاص ضرورت کے لیے تعداد بڑھانا چاہیں تو آپ بالکل آزاد ہیں۔ اہل علم کے مشاہدات اور تجربات بھی اس معاملے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ ان وظائف کو اپنی مرضی کی تعداد میں پڑھ سکتے ہیں، اس میں شریعت کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اسے آپ بالکل دعا کی طرح سمجھیں، جسے انسان جتنی بار چاہے اور جب چاہے مانگ سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




