سوال 7631
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز علماء رہنمائی فرمائیں۔
بعض خواتین بچہ دانی نکلوا دیتی ہیں یا پھر وقفہ کروا لیتی ہیں کیا یہ عمل درست ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ قدرت کے خلاف جنگ ہے۔ ایک جنگ ہم نے قدرت کے خلاف فطرت کے خلاف چھیڑ رکھی ہے۔ اپنی قدرتی خوراکیں چھوڑ کر اور اس کا علاج جو ہمارے پاس ہے وہ ہم نے پھر ایک اور جنگ چھیڑ کر کر دیا ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللہ خیرا
شیخ محترم
اصل سوال کا جواب تو مل گیا ہے
لیکن اگر مزید وضاحت کر دیں آپ اپنے جواب کی تو ان شاءاللہ زیادہ فائدہ ہوگا۔
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کی وضاحت یہ ہے کہ کفر نے کیا کیا، آپ کو پتا ہے؟ آپ سے جو بڑی بڑی اہم چیزیں کفر نے چھینی ہیں، ان میں سے ایک آپ کی رسوئی اور کچن بھی ہے۔
آج سے پینتیس، چالیس بلکہ پچاس سال پیچھے چلے جائیں اور دیکھیں کہ ہمارا کچن کیسا ہوتا تھا، ہمارے کھانے پینے کے اوقات کار کیا تھے اور ہماری خوراک کیسی ہوا کرتی تھی۔
اس پر اب غور کر لیں تو آپ کو مزید وضاحت کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں مستقل طور پر ایسا کرنا حلال نہیں۔ یہ اللہ کی تخلیق کو بدلنے کے مترادف ہے۔
جوکہ حرام ہے۔ (النساء#119)
البتہ عارضی طور پر کوئی بھی راستہ اختیار کرسکتے ہیں جس سے حمل نہ ہو۔ البتہ اگر بچہ دانی کا کینسر ہو یا اس طرح کا مرض ہو جس سے جان جا سکتی ہے تو اس خاص صورت میں مختلف ماہر ڈاکٹروں کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے جواز کا حکم بیان کیا جاسکتا ہے اضطراری صورت کے پیش نظر۔
ورنہ مطلقا حکم یہی ہے کہ ایسا کرنا حرام ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




