سوال 7717
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
اگر کسی شخص کے پاس کچھ سرمایہ (20-30 لاکھ یا کم یا زیادہ) موجود ہو جسے وہ کیش کی صورت میں گھر پر نہیں رکھ سکتا، کسی کاروبار میں بھی نہیں لگا سکتا اور وہ سرمایہ لمبے عرصے (کئی ماہ تک) بنک میں ہی پڑا رہنا ہے تو کیا ایسی صورت میں وہ اس سرمائے سے المیزان یا کسی اور میوچل فنڈز میں انوسٹمنٹ کر سکتا ہے؟
میوچل فنڈز میں ادارہ آپ کی رقم مختلف اسٹاکس میں انوسٹ کرکے آپ کو روزانہ یا ماہانہ کی بنیاد پر منافع دیتا رہتا ہے اور آپ اپنی ساری یا کچھ رقم کسی بھی وقت نکلواسکتے ہیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلامک بینک اور عام بینکوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسلامک بینک میوچول فنڈز میں انویسٹمنٹ کے نام پر آپ کو سود دیتا ہے، جبکہ عام بینک واضح طور پر سود دیتا ہے۔
اس سرمائے کا ایک سے زیادہ جگہوں پر بہترین استعمال ہو سکتا ہے، بشرطیکہ انسان سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرے اور اس کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔ بہت ساری چیزیں ہیں اور بہت سارے میدان کھلے ہیں جہاں آپ کا سرمایہ محفوظ رہ سکتا ہے۔
لیکن اسلامک بینکنگ، عام بینکنگ سے بھی زیادہ مہنگی ہے۔ عام بینک آپ کو زیادہ سہولتیں دے گا اور آپ کے پیسے کم کاٹے گا، جبکہ اسلامک بینک سہولتیں کم دے گا اور پیسے زیادہ کاٹے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




