سوال 7714

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم و مکرم مفتیانِ کرام! نہایت ادب و احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ درج ذیل احادیثِ مبارکہ کے متعلق ہماری علمی رہنمائی فرمائیں۔
نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کمالِ حیا کے متعلق حدیثِ مبارکہ میں وارد ہے:

«كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا»

دوسری طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

«أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ، أَوْ سَاقَيْهِ»

مفتیانِ کرام کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ درج ذیل امور کی وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں:
1. ان دونوں احادیثِ مبارکہ کے مابین بظاہر محسوس ہونے والے اشکال کی کیا توجیہ اور تطبیق ہے؟ محدثین و شارحینِ حدیث نے ان روایات کو کس طرح سمجھا ہے؟
2. مذکورہ روایت میں «فَخِذَيْهِ» کے الفاظ سے رانوں کا کھلا ہونا مراد لیا جائے تو کیا اس سے ران کے ستر نہ ہونے پر استدلال کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو اس کی علمی توجیہ کیا ہے؟
3. شریعتِ اسلامیہ میں ران کے ستر ہونے کے متعلق ائمۂ اربعہ کا کیا موقف ہے، اور اس مسئلے میں اختلاف کی بنیادی وجوہات اور دلائل کیا ہیں؟
ان روایات کی صحت، اصل مراجع اور معتبر شروحِ حدیث کی روشنی میں راجح موقف کیا ہے، اور بظاہر اختلاف محسوس ہونے والی احادیث کے مابین کس اصول کے تحت تطبیق دی جائے گی؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری پہلی گزارش یہ ہے کہ اصل مراجع سے ان روایات کو سیاق و سباق اور ابواب کی تبویب کے ساتھ نکال کر دیکھ لیا جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ پہلی روایت میں عمومی طور پر تشبیہ دی جا رہی ہے، تاکہ شرم و حیا کی انتہا کو سمجھایا جا سکے۔
دوسری روایت گھر کے داخلی معاملے سے متعلق ہے۔ گھر کے داخلی معاملے میں زوجین کے مابین ہر وہ چیز جائز ہے جس سے شارع نے منع نہیں کیا۔ تو اس میں کیا اشکال ہو سکتا ہے؟

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ