سوال 7715
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
قاری صاحب! ایک مسئلے میں رہنمائی مطلوب ہے۔
اگر کوئی شخص زکوٰۃ لینے سے انکار کر دے، حالانکہ وہ صاحبِ حیثیت اور صاحبِ نصاب بھی نہ ہو، یعنی اس کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی، یا ان دونوں کی مالیت کے برابر نقدی اور دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال نہ ہوں، تو کیا اسے بتائے بغیر زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
مثلاً اسے گھر بنانا ہے، لیکن اس کے پاس رقم پوری نہیں ہے۔ وہ زکوٰۃ لینے سے انکار کر رہا ہے، حالانکہ اسے ضرورت بھی ہے۔ کیا اس کی مرضی کے بغیر اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
اسی طرح اگر زکوٰۃ کی مد میں رقم آ جائے اور مستحق شخص اسے لینے سے انکار کر دے، تو کیا ہم اپنی صواب دید کے مطابق وہ رقم کسی دوسرے انتہائی ضرورت مند شخص، مثلاً کسی مریض یا دوسرے بہت زیادہ محتاج فرد کو دے سکتے ہیں؟ یا جس شخص نے زکوٰۃ کے لیے رقم دی ہے، اسے پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا ضروری ہے؟
براہِ کرم اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرما دیں، تاکہ پوری بات سمجھ میں آ جائے۔
جزاکم اللہ خیراً کثیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس شخص کو جو ضرورت مند ہے، سمجھانا چاہیے کہ آپ زکوٰۃ لے سکتے ہیں، کیونکہ شریعت نے اس میں آپ کا حق رکھا ہے۔
اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے، لیکن سمجھانے کے باوجود اس بات کو قبول نہیں کرتا اور اپنی غیرت کا زیادہ اظہار کرنا چاہتا ہے، تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ پھر زکوٰۃ کی رقم کو اس کے صحیح مصرف میں لگایا جائے۔
زکوٰۃ کے مصارف سورۃ توبہ میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کوئی مصرف سامنے ہو تو اہلِ علم سے پوچھ کر رقم اس مصرف میں لگانی چاہیے اور ان لوگوں کو دے دینی چاہیے جن کا وہاں ذکر ہے۔
نیز جن لوگوں نے یہ مال دیا ہے، انہیں آگاہ کرنا چاہیے کہ ہم نے یہ رقم اس طرح خرچ کی ہے۔ اس کے گواہ بھی موجود ہیں کہ ان کے سامنے ہم نے آپ کی امانت اس کے مستحق تک پہنچا دی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




