سوال 7717

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک خاتون کا مسئلہ ہے کہ ان کے شوہر نے تقریباً چھ سات ماہ پہلے طلاق کا ایک کاغذ ٹی سی ایس کے ذریعے بھیجا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شوہر نے یونین کونسل میں طلاق کے مزید دو کاغذات بھی جمع کروائے تھے، جن کی اطلاع انہیں بروقت نہیں ملی۔
خاتون کے چار بچے ہیں، جن میں دو بڑی بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ اب شوہر اپنی غلطی پر پشیمان ہے اور بچوں کی ذمہ داری بھی نبھا رہا ہے۔ دونوں میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں اور خاتون بھی اپنے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں دوبارہ نکاح کی کوئی شرعی گنجائش ہے؟ اگر ہے تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پہلی طلاق اگر پیپر کے ذریعے دی گئی ہو، خواہ زبانی دی ہو یا میسج کے ذریعے، تو ایک طلاق واقع ہو گئی اور عورت عدت میں داخل ہو گئی۔ عورت کی عدت تین حیض ہے۔ اگر اس دوران شوہر نے رجوع نہیں کیا تو تین حیض گزرنے کے بعد عورت بائنہ ہو جائے گی اور دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام اور اجنبی ہو جائیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شوہر نے عدت کے دوران رجوع کیا تھا یا نہیں؟ دوسرا نوٹس کب آیا اور تیسرا نوٹس کب آیا؟ ان کی تاریخوں کی وضاحت ہونی چاہیے۔
اگر ایک حیض کے بعد دوسرا نوٹس آیا، پھر اگلے حیض کے بعد یا مہینے بعد، جیسا کہ ہم کہتے ہیں، دوسرا اور تیسرا نوٹس آیا، تو پھر ظاہر سی بات ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
لیکن اگر پہلی طلاق کے بعد عورت کی عدت ہی گزر گئی اور اس کے بعد دوسرے پیپر آئے تو وہ لغو ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں تجدیدِ نکاح کی گنجائش بن سکتی ہے۔
لہٰذا اس معاملے کو مقامی علماء کے حوالے کرنا چاہیے۔ دونوں میاں بیوی کو بلا کر ان کے حلفیہ بیانات لیے جائیں، طلاق کے تمام پیپر دیکھے جائیں اور پھر تاریخوں اور حالات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ