سوال 7186
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاته
محترم اسلام میں بدفالی سے منع کیا گیا ہے اور نیک فال لینا جائز ہے تو خیر و شر تو دونوں اللہ پاک کے طرف سے ہے تو یہ نیک فال کیوں جائز ہے کیونکہ خیر بھی تو اللہ کی طرف سے ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دینِ اسلام نے بعض چیزوں کو بیان کرنے کے بعد سکوت بھی اختیار کیا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا:
“سَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا”
یعنی اللہ تعالیٰ نے بعض امور کو بلا کسی بھول چوک کے خاموشی سے چھوڑ دیا ہے، لہٰذا ان کے بارے میں غیر ضروری بحث اور کھوج نہ کرو۔
اسی طرح شریعت نے نیک فال کو “کلمۂ طیبہ” قرار دیا ہے، یعنی پاکیزہ، خوشگوار اور اچھا کلمہ، اور اس کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ جب شارع نے ایک چیز کو جائز قرار دے دیا تو پھر اس میں بلاوجہ اشکالات پیدا کرنا درست نہیں۔
نبی علیہ السلام وحی کے مطابق گفتگو فرماتے ہیں، لہٰذا جو چیز جائز ہے، شریعت نے اسے واضح کر دیا، اور جو ناجائز ہے، اس کی بھی وضاحت فرما دی۔
جیسے کفارِ مکہ اعتراض کرتے تھے:
﴿إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا﴾
کہ “تجارت بھی تو سود کی طرح ہے”۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی یا فلسفیانہ بحث میں پڑنے کے بجائے واضح حکم دے دیا:
﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
یعنی اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
بس بات ختم ہو گئی۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کسی چیز کا حکم واضح کر دیں، تو اس کے بعد اصل رویہ تسلیم و اطاعت کا ہونا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




