سوال 7187
ایک شخص نے سوال کیا کہ مساجد میں سنگِ مرمر، فرش، دیواریں اور دیگر آرائش پر خرچ کرنے سے بہتر نہیں کہ یہی رقم کسی فقیر و مسکین کو دے دی جائے؟
مشائخِ کرام اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم الله خيرا
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
لازم نہیں ہے کہ مسجد میں سنگِ مرمر یا غیر ضروری آرائش پر ہی پیسہ لگایا جائے، لیکن اللہ کا گھر ہے، جتنا مناسب اور اچھا بن سکے، اچھی بات ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور نمود و نمائش نہ ہو۔
البتہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ “یہ پیسے غریبوں کو دے دیے جائیں”، ان سے یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کے اپنے گھروں میں یہ چیزیں موجود نہیں؟ کیا ان کے گھروں میں ماربل، ٹائلیں، پنکھے، اے سی، بجلی، سولر، موبائل، گاڑیاں یا بہتر رہائش نہیں؟
کیا چھت ڈالنا فرض ہے؟ بغیر چھت کے بھی تو رہا جا سکتا ہے، ٹین کی چادریں بھی لگ سکتی ہیں۔ نبی علیہ السلام نے سادہ زندگی گزاری، کیا ایک کمرے میں گزارا نہیں ہو سکتا؟
اس لیے بات میں توازن ہونا چاہیے۔ اگر سادگی کا معیار قائم کرنا ہے تو پھر وہ معیار ہر جگہ یکساں ہونا چاہیے۔ البتہ فقراء کی مدد بھی اہم ہے اور مسجد کی مناسب تعمیر و سہولت بھی اپنی جگہ ایک نیکی ہے۔ اصل چیز اعتدال، اخلاص اور ضرورت کا لحاظ رکھنا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




