سوال 7492

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک نوجوان کا سوال
1: مجھے اینزائٹی ڈپریشن بہت ہے
2: اسلامک پوائنٹس آف ویو سے اسکا کیا علاج ہے
3: ایسا لگتا ہے میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے
4: اپنے کاموں میں، امتحانات میں مستقل فیل ہو رہا ہوں
5: سوسائیڈ تھوٹس آتے ہیں بس اب اپنی زندگی کو ختم کردوں
6: جن پر بوجھ ہوں ، ان کو سکون دوں
اس بارے میں مکمل رہنمائی فرمائیں اور جامع حل بتائیں ۔
جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا، سب سے پہلے تو اس نوجوان کا فوری طور پر کونسلنگ سیشن ہونا چاہیے، اس لیے کہ یہ صرف ڈپریشن کی بات نہیں کر رہا بلکہ سوسائیڈ کی بات کر رہا ہے، خودکشی کی بات کر رہا ہے۔ اللہ نہ کرے اگر واقعی سوال میں بیان کردہ کیفیت ہے تو اس کے گھر والوں کو بتایا جائے کہ اسے اکیلا نہ چھوڑا جائے اور ایسی چیزیں جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس کی دسترس سے دور رکھی جائیں۔
جہاں تک بات ہے، اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات بٹھائی جائے کہ تم بوجھ نہیں ہو۔ اس نوجوان نے یہ جو کہا ہے کہ “جن پر بوجھ ہوں ان کو سکون دوں” اور پھر وہ ان کو سکون خودکشی کے ذریعے دینا چاہتا ہے، تو اس کے ساتھ بیٹھ کر سیشن کیے جائیں اور اسے بتایا جائے کہ تم اپنے گھر والوں کے لیے بوجھ نہیں ہو۔
تم اس وقت ایک بڑے پیچیدہ اور پینک فیز سے گزر رہے ہو۔ بیماری اور کمزوری انسان کو بوجھ نہیں بناتی۔ بہت ساری بیماریاں جسمانی ہوتی ہیں اور بہت ساری بیماریاں ذہنی ہوتی ہیں۔ جس طرح جسمانی بیمار کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ذہنی اور جذباتی بیماری میں بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
خودکشی کے جو خیالات ہیں، وہ اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ انسان اس وقت شدید ایموشنلی فیز میں ہے۔ تو اسے صرف ملامت کرنے کے بجائے مناسب کونسلنگ اور علاج کے ذریعے اس کیفیت سے باہر لانے کی کوشش کی جائے۔
اور اسے یہ نہ کہا جائے کہ “تم میں ایمان کی کمی ہے، مسلمان خودکشی کا نہیں سوچ سکتا۔” بلکہ اسے یہ باور کروایا جائے کہ تم مسلمان ہو، تمہاری زندگی بہت قیمتی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بہت کچھ رکھا ہوا ہے۔ آج کچھ عرصے کے لیے مشکلات ہیں، لیکن آگے بہت سی چیزیں تمہیں مل سکتی ہیں۔ تم بہت سارے لوگوں کی مدد کر سکتے ہو، تمہارے پاس بہت کچھ ایسا ہے جس سے تم لوگوں کے کام آ سکتے ہو۔
اگر ضرورت ہو تو اسے کسی ماہرِ نفسیات، کلینیکل سائیکالوجسٹ یا ہسپتال کی ایمرجنسی تک لے جایا جائے، تاکہ اسے مناسب مدد مل سکے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اسے محفوظ رکھا جائے اور یہ باور کروایا جائے کہ ہم تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
اور یہاں یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ ڈپریشن اور اینزائٹی ایمان کی کمزوری نہیں ہیں۔ یہ غم، اضطرابی کیفیت، ذہنی دباؤ اور بیماری کی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں میں بھی شدید دکھ، صدمے اور غم کی کیفیات گزری ہیں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی وہ دعا یاد ہونی چاہیے:

﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾

اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعا بھی منقول ہے:

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ»

اور حضرت ایوب علیہ السلام نے بھی اپنی تکلیف کے بارے میں فرمایا:

﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ﴾

کیا کمال کلمات ہیں! اپنی بڑی تکلیف بیان کر دی، لیکن اس کے بعد فرمایا:

﴿وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾

یعنی اے اللہ! تو رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
تو یہ کیفیات کسی کے ساتھ بھی آ سکتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ ایمان کی کمزوری ہو۔ البتہ اس کے ساتھ مناسب میڈیکل اور نفسیاتی علاج کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اچھا کلینیکل سائیکالوجسٹ مل جائے تو اس سے ٹریٹمنٹ کروائی جائے۔ اللہ تعالیٰ خیر والے معاملات کرے گا، ان شاء اللہ العزیز۔
اور باقی اس کے ساتھ دو کام لازمی کیے جائیں۔ ایک یہ کہ اسے قرآنِ مجید سنایا جائے۔ قرآنِ مجید کی تلاوت میں عجب تاثیر ہے۔ میں نے یہ نسخہ سینکڑوں طلباء، بلکہ ہزاروں طلباء کو بتایا ہے۔ جتنے لوگوں نے مجھے بتایا، ان میں بہت سے لوگوں نے یہ ذکر کیا کہ قرآن کی تلاوت سننے کے بعد وہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سے بہت حد تک باہر آ گئے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کے سننے میں واقعی تاثیر ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ اسے کمپنی دی جائے اور اپنے ساتھ کسی نہ کسی مصروفیت میں لگایا جائے۔ بہت چھوٹے چھوٹے کاموں میں اسے لگایا جائے، اسے واک کے لیے لے کر جایا جائے، اس کے ساتھ واک کی جائے۔ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور معمول کی مصروفیات بھی طبیعت کی بہتری میں مدد دیتی ہیں۔
باقی بہت کچھ اس کے ٹریٹمنٹ میں کہا جا سکتا ہے، لیکن سرِ دست اتنا ہی کہا جائے کہ اللہ کا ذکر کرے، قرآن کی تلاوت سنے، مناسب واک کرے، گھر والے اسے کمپنی دیں اور اسے اپنے ساتھ انگیج رکھیں۔
واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ سے ہم اس کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت، سکون اور عافیت عطا فرمائے اور اس کی تمام پریشانیوں کو دور فرمائے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ