سوال 7580

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنھا کے متعہ والی روایت کے متعلق رہنمائی فرمائیں روافض کی طرف سے یہ روایت پیش کرتے ہیں؟
کتاب کا نام مسند ابو داؤد طیالسی | حدیث نمبر: 314 | صفحہ نمبر: 505 | راوی حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما | سند راویوں کا سلسلہ): یونس – ابو داؤد ) شعبہ ) مسلم القرى – حضرت اسماء بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہما)
حدیث کا متن: “حضرت مسلم قری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم نے ان سے عورتوں کے متعہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا، ہم نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں یہ کروایا تھا۔”

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
روافض کی طرف سے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بطورِ اعتراض پیش کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں پر روافض کا دجل اور کذب بیانی، حسبِ معمول، یہاں بھی موجود ہے۔
اس روایت کو سمجھنے کے لیے اس حدیث کے تمام طرق، صحیح مسلم کی روایت اور محدثین کے اصول سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان سب کو سامنے رکھا جائے تو اس روایت سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نکاحِ متعہ کیا تھا یا وہ بعد میں اسے جائز سمجھتی تھیں۔
اتفاق کی بات ہے کہ میں اس موضوع پر کچھ مواد ایک مضمون کی صورت میں جمع کر رہا تھا کہ یہ سوال میرے سامنے آ گیا، تو اسی مضمون کا ایک حصہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
ایک روایت وہ ہے جو آپ نے ذکر کی، مسند ابی داؤد طیالسی میں۔ اس کی صحت کے حوالے سے مشائخ، جن کا تخصص تخریج اور تصحیح کے میدان میں ہے، وہ اس پر تبصرہ کر سکیں گے۔
لیکن میں اس پر جو بات کہنا چاہوں گا، وہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ یہ روایت سرے سے موجود ہی نہیں، علمی جواب نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہونی چاہیے کہ کیا یہی الفاظ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی محفوظ روایت ہیں؟
جب صحیح مسلم کی طرف آتے ہیں تو اس روایت کا اصل سیاق ہمارے پاس موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج کے تمتع کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے اس کی اجازت دی، جبکہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کرتے تھے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ ابن زبیر کی والدہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی تھی، لہٰذا ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔
ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی تھی۔
تو یہاں جو بات کی جا رہی ہے، وہ متعۃ الحج کی ہے، نہ کہ نکاحِ متعہ کی۔ یعنی حجِ تمتع کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔
اور یہی روایت پھر صحیح مسلم کی ایک اور حدیث میں بھی موجود ہے۔ اس کا ریفرنس تو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے اور نہ ہی میں یہاں اس کا ریفرنس چیک کر سکا ہوں، لیکن صحیح مسلم میں یہی روایت ایک اور جگہ بھی موجود ہے۔ اس کا متن چونکہ میں نے ابھی تک فائنل نہیں کیا، البتہ اس کے کلمات کچھ اس طرح ہیں کہ شعبہ نے کہا کہ مسلم کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ متعۃ الحج مراد ہے یا متعۃ النساء۔
یہاں سے بات واضح ہوتی ہے کہ خود راوی کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ جس متعہ کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، وہ حجِ تمتع کے حوالے سے ہے یا عورتوں کے متعہ کے حوالے سے۔
لہٰذا روافض کا یہ کہنا کہ صحیح سند سے ثابت ہو گیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نکاحِ متعہ کیا تھا، تو یہ ان پر تہمت اور الزام تراشی ہے اور یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے۔
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک روایت کے ایک طریق اور ایک سند میں متعۃ النساء کے الفاظ آئے ہیں، لیکن دوسرے اور زیادہ محفوظ طرق میں یہ وضاحت موجود نہیں، بلکہ صحیح مسلم کا جو متن ہے اس میں متعۃ الحج کا سیاق موجود ہے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابو داؤد طیالسی کی روایت میں لفظ النساء کیوں آیا ہے؟ تو اس حوالے سے میرے جو متخصص ساتھی ہیں، میں ان سے التماس کروں گا کہ وہ اس کی جمع اور اس کی وضاحت کریں، تاکہ مجھے اپنے اس مضمون کو فائنل کرنے میں بھی آسانی ہو جائے۔
لیکن ایک بات میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ کسی بھی ایک موضوع پر کسی ایک حدیث یا ایک حدیث کے چند الفاظ کو لے کر موقف نہیں بنایا جاتا۔ بلکہ اس سے متعلق تمام احادیث اور تمام نصوص کو جمع کیا جاتا ہے، پھر کہیں جا کر وہ بات واضح ہوتی ہے اور اس پر موقف بیان کیا جاتا ہے۔
بالخصوص حدیث کے حوالے سے تو کسی بھی ایک حدیث کے تمام طرق کو جمع کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی ایک متن میں آئے ہوئے ایک منفرد لفظ کو لے کر پورا عقیدہ بنا دیا جائے۔
پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے حالاتِ زندگی پڑھیے۔ سیدہ اسماء، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور ان سے ان کا نکاح ہجرت سے پہلے ہو چکا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہجرت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نکاحِ متعہ کیا تھا، تو یہ بذاتِ خود ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے واضح اور قطعی دلیل درکار ہے۔
پھر اس میں ایک بات اور بھی ذہن میں رکھیے کہ اہلِ سنت کے نزدیک متعہ کی حرمت الگ سے قطعی احادیث سے ثابت ہے۔ جب صحیح احادیث سے اس فعل کی حرمت ثابت ہے تو ایک مختلف فیہ لفظ کو لے کر اس قطعی حکم کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا روافض کے اس اعتراض کے علمی جواب کو اگر ہم سمرائزڈ کرنا چاہیں تو:
نمبر ایک: مسند طیالسی کی اس روایت میں متعۃ النساء کے الفاظ واقعی موجود ہیں، اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
نمبر دو: اس کی صحیح توجیہ صحیح مسلم کی محفوظ روایت سے واضح ہو جاتی ہے۔
نمبر تین: امام مسلم نے دوسرے طرق بھی نقل کیے ہیں اور بتایا ہے کہ بعض روایات میں صرف المتعہ کا لفظ ہے، جبکہ امام شعبہ کے مطابق راوی مسلم کو خود شک تھا کہ «لا أدري متعة الحج أو متعة النساء» یعنی مجھے معلوم نہیں کہ حجِ تمتع مراد ہے یا وہ معروف متعہ مراد ہے جسے روافض اپنے عقیدے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
نمبر چار: خود ابو داؤد طیالسی سے منقول ایک روایت میں متعۃ النساء کی صراحت نہیں، بلکہ صرف المتعہ کا لفظ بیان کیا گیا ہے۔
نمبر پانچ: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے ذاتی حالات کو جمع کیا جائے تو وہاں اس بات کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ملتا۔
نمبر چھ: صحیح مسلم کا مکمل سیاق سامنے رکھا جائے تو اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ یہاں اصل گفتگو حج تمتع کے بارے میں ہے، نہ کہ نکاحِ متعہ کے بارے میں۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
دکتور محترم آپ نے بہت عمدہ لکھا ہے حدیث ایک ہی ہے اور اس کی تفصیل و توضیح صحیح مسلم:(1238) کی روح عن شعبہ کے طریق سے مروی روایت میں موجود ہے جسے آپ نے بیان کر دیا وہیں پر دیگر طرق،راوی جا مقید نہ کرنا بھی موجود ہے۔
مسند أحمد بن حنبل کے محققین صحیح مسلم کی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں

ﻭﺃﺧﺮﺟﻪ اﻟﻄﻴﺎﻟﺴﻲ (1637) – ﻭﻣﻦ ﻃﺮﻳﻘﻪ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻓﻲ “اﻟﻜﺒﺮﻯ” (5540) ، ﻭاﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ “اﻟﻜﺒﻴﺮ” 24/ (277) – ﻭﻣﺴﻠﻢ (1238) (195) ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻘﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺪﻱ ﻭﻏﻨﺪﺭ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ، ﺛﻼﺛﺘﻬﻢ ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ، ﺑﻪ. ﻗﺎﻝ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﻘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ: ﻓﺄﻣﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﻓﻔﻲ ﺣﺪﻳﺜﻪ اﻟﻤﺘﻌﺔ، ﻭﻟﻢ ﻳﻘﻞ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﺤﺞ. ﻭﺃﻣﺎ اﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﻓﻘﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺷﻌﺒﺔ: ﻗﺎﻝ ﻣﺴﻠﻢ: ﻻ ﺃﺩﺭﻱ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﺤﺞ ﺃﻭ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﻨﺴﺎء.
ﻗﻠﻨﺎ: ﻭﺭﻭاﻳﺔ اﻟﻄﻴﺎﻟﺴﻲ ﺟﺎء ﻓﻴﻬﺎ: “ﻣﺘﻌﺔ اﻟﻨﺴﺎء”، ﻟﻜﻨﻬﺎ ﻭﻗﻌﺖ ﻋﻨﺪ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ: “اﻟﻤﺘﻌﺔ” ﺩﻭﻥ ﺗﻘﻴﻴﺪ. ﻗﻠﻨﺎ: ﻭاﻟﺼﻮاﺏ ﺃﻧﻬﺎ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﺤﺞ ﻛﻤﺎ ﺟﺎء ﻓﻲ ﺭﻭاﻳﺔ ﺭﻭﺡ ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ ﻫﻨﺎ، ﻭﻛﻤﺎ ﺳﻠﻒ ﻓﻲ اﻟﺮﻭاﻳﺎﺕ اﻷﺧﺮﻯ ﻟﻠﺤﺪﻳﺚ.

مسند أحمد بن حنبل:( 26946) کی تعلیق میں
یعنی دیگر ثقات حفاظ کے برعکس ابو داود طیالسی کو وھم ہوا ہے کیونکہ مسلم القری راوی نے ایک بار اسے متعة الحج کہہ کر روایت کیا اور ایک بار شک کے ساتھ المتعة کہا اور مقید نہیں کیا تو ابو داود طیالسی کو وھم ہوا اور متعة النساء گمان کر بیٹھے
اور ان کے برعکس امام عبد الرحمن بن مھدی،روح بن عبادہ، جعفر غندر وغیرہ جیسے حفاظ متعة النساء بیان نہیں کرتے ہیں جو حافظ و أثبت ہیں شعبہ سے
گویا ابو داؤد طیالسی نے ان کی مخالفت کی ہے اور وھم کا شکار ہو گئے تھے۔
مسند أبی داود الطیالسی کی سند سے یہی روایت المعجم الكبير للطبرانى میں ہے دوسرے طریق سے ہے مگر وہاں
ﺩﺧﻠﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺃﺳﻤﺎء ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﻓﺴﺄﻟﻨﺎﻫﺎ ﻋﻦ اﻟﻤﺘﻌﺔ کے الفاظ ہیں یعنی النساء کا ذکر نہیں ہے ملاحظہ کریں

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﻭﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ اﻟﻨﺮﺳﻲ، ﻗﺎﻻ: ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺣﻔﺺ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ، ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ، ﺛﻨﺎ ﺷﻌﺒﺔ، ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ اﻟﻘﺮﻱ، ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻠﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺃﺳﻤﺎء ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﻓﺴﺄﻟﻨﺎﻫﺎ ﻋﻦ اﻟﻤﺘﻌﺔ، ﻓﻘﺎﻟﺖ: ﻓﻌﻠﻨﺎﻫﺎ ﻋﻠﻰ ﻋﻬﺪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ

المعجم الكبير للطبرانى :24/ 103 (277) سنده صحيح

حافظ ابو نعیم الأصبهانى مسند الطیالسی کی روایت نقل کرنے کے متصل بعد کہتے ہیں:
ﺛﻨﺎﻩ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻴﺎﻥ ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ ﺓ ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﺛﻨﺎ ﺷﻌﺒﺔ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻤﺘﻌﺔ ﻭﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ اﻟﻨﺴﺎء
ﺭﻭاﻩ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻮﺳﻰ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻤﺘﻌﺔ ﻭﻟﻢ ﻳﺬﻛﺮ اﻟﺤﺞ ﻭﻋﻦ ﺑﻨﺪاﺭ ﻋﻦ ﻏﻨﺪﺭ ﻓﻘﺎﻝ ﻗﺎﻝ ﻣﺴﻠﻢ ﻻ ﺃﺩﺭﻱ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﺤﺞ ﺃﻭ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﻨﺴﺎء

المسند المستخرج على صحيح مسلم :3/ 341
یعنی امام ابو حفص عمرو بن علی الفلاس جیسے ناقد و حافظ اور عبدہ جیسے ثقہ نے بھی النساء کے بغیر بیان کیا ہے اور یہ یونس بن حبیب سے بڑے حافظ و ثقہ ہیں اور یہی راجح ہے اور ﻓﻌﻠﻨﺎﻫﺎ ﻋﻠﻰ ﻋﻬﺪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ سے مراد حج تمتع ہی ہے کیونکہ نکاح متعہ کا تعلق تو عام نہیں تھا سفر جہاد کے ساتھ اور محدود تھا اور عام طور پر صحابہ کرام سے یہ عمل بھی ثابت نہیں ہے بلکہ حج تمتع ہی ثابت ہے مزید سیدہ اسماء بنت ابی بکر سے یہ الزام اس لئے بھی باطل قرار پاتا ہے کہ وہ شادی شدہ تھیں سیدنا زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے عقد میں تھیں اس لئے سیدہ اسماء بنت ابی بکر نے جو تمتع کیا اور بتایا وہ حج تمتع تھا اس پر دیگر احادیث میں صراحت موجود ہے۔
اور جس متع کی اجازت سیدنا ابن عباس رضی الله عنہ کر رہے ہیں وہ حج تمتع ہے صحیح البخاری کی حدیث میں یوں صراحت موجود ہے

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ اﻟﻨﻀﺮ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺷﻌﺒﺔ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺟﻤﺮﺓ، ﻗﺎﻝ: ﺳﺄﻟﺖ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ عنهما، ﻋﻦ اﻟﻤﺘﻌﺔ، ﻓﺄﻣﺮﻧﻲ ﺑﻬﺎ…….

صحيح البخاري :(1688) ﺑﺎﺏ {ﻓﻤﻦ ﺗﻤﺘﻊ ﺑﺎﻟﻌﻤﺮﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺞ ﻓﻤﺎ اﺳﺘﻴﺴﺮ ﻣﻦ اﻟﻬﺪﻱ۔۔۔۔۔۔۔۔کے تحت
ابن عباس رضی الله عنہ سے یہی الفاظ محفوظ ہیں اور متعة النساء کے الفاظ واضح بڑی غلطی ہے
اختلاف الحديث میں یوں وضاحت ہے:

ﺭﻭﻯ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ ﻻﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ: ﺇﻥ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﺣﻞ ﻣﻦ ﻣﺘﻌﺘﻪ اﻟﺤﺞ، ﻓﺮﻭﻯ ﻫﺬا ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻧﻬﺎ ﻣﺘﻌﺔ اﻟﻨﺴﺎء، ﻭﻫﺬا ﻏﻠﻂ ﻓﺎﺣﺶ۔

اختلاف الحديث :8/ 672
مزید اس مسئلہ کی وضاحت ایک دوسری روایت سے ہو جاتی ہے اور کوئی ابہام و اشکال باقی نہیں رہتا ہے سواے اہل نفاق وفساق کی خباثت کے۔
ملاحظہ کریں:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﻌﻘﻮﺏ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻲ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ، ﻗﺎﻝ: ﺇﻧﺎ ﻟﺒﻤﻜﺔ، ﺇﺫ ﺧﺮﺝ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﻓﻨﻬﻰ ﻋﻦ اﻟﺘﻤﺘﻊ ﺑﺎﻟﻌﻤﺮﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺞ، ﻭﺃﻧﻜﺮ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﻨﺎﺱ ﺻﻨﻌﻮا ﺫﻟﻚ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﺒﻠﻎ ﺫﻟﻚ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻭﻣﺎ ﻋﻠﻢ اﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﺑﻬﺬا، ﻓﻠﻴﺮﺟﻊ ﺇﻟﻰ ﺃﻣﻪ ﺃﺳﻤﺎء ﺑﻨﺖ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﻓﻠﻴﺴﺄﻟﻬﺎ، ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﻗﺪ ﺭﺟﻊ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺣﻼﻻ ﻭﺣﻠﺖ، ﻓﺒﻠﻎ ﺫﻟﻚ ﺃﺳﻤﺎء ﻓﻘﺎﻟﺖ: ﻳﻐﻔﺮ اﻟﻠﻪ ﻻﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻭاﻟﻠﻪ ﻟﻘﺪ ﺃﻓﺤﺶ، ﻭاﻟﻠﻪ ﻗﺪ ﺻﺪﻕ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻟﻘﺪ ﺣﻠﻮا ﻭﺃﺣﻠﻠﻨﺎ ﻭﺃﺻﺎﺑﻮا اﻟﻨﺴﺎء۔

مسند أحمد بن حنبل :(16103) سنده حسن لذاته
البتہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا زبیر بن العوام رضی الله عنہ حلال نہیں ہوے تھے( صحیح مسلم:1236) ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﻳﻠﺰﻡ، ﻣﻦ ﻃﺎﻑ ﺑﺎﻟﺒﻴﺖ ﻭﺳﻌﻰ، ﻣﻦ اﻟﺒﻘﺎء ﻋﻠﻰ اﻹﺣﺮاﻡ ﻭﺗﺮﻙ اﻟﺘﺤﻠﻞ۔
اہل باطل،خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہمیشہ سے متشابہات و منکرات اور تاویلات باطلہ کے پیچھے چلتے ہیں۔
جن لوگوں نے دلوں میں نفاق پال رکھا ہے وہی سب سے زیادہ پاکیزہ صفات کی مالک شخصیتوں کے بارے میں زہر اگلتے اور اتہام و والزام لگاتے ہیں ہیں اور ذرہ برابر بھی شرمسار نہیں ہوتے ہیں جس سے ان کی تین دشمنی اور خباثت و شیطانیت ظاہر ہو جاتی ہے۔
صحابہ کرام،صحابیات طیبات پر اس طرح کے گندے اعتراض کرنا درحقیقت قرآن کریم میں موجود ان کی شان وعظمت اور مضبوط گواہیوں کا انکار ہے اور دین اسلام کے کمال خوبصورت چہرے کو داغ دار کرنا ہے اور اپنے گندے نفس کو سکون دینا ہے الله تعالى انہیں برباد کریں اور رب العالمین کی ایسے دشمنان اسلام پر بے شمار پھٹکار ولعنت ہو۔
بہرحال صحیح اور محفوظ حدیث متعة الحج کے ساتھ ہی ہے متعة النساء راوی کا وھم و خطاء ہے۔
والله أعلم بالصواب

مسند أبی داود الطیالسی کی روایت میں النساء کا لفظ راوی کا وھم ہے۔
تفصیل بھیج دی ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ