سوال (1215)

دوران عدت عید کے موقع پر نئے کپڑے پہننا اور مناسب سنگھار کرنا شرعا کہاں تک جائز ہے؟

جواب

اگر اس سے مراد بیوہ کی عدت ہے، تو اس کے لیے عید یا غیر عید کسی بھی غرض سے بناؤ سنگھار کرنا یا گھر سے باہر نماز عید وغیرہ کے لیے نکلنا جائز نہیں۔

عن أم حبيبة رضي الله عنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاثة أيام، إلا على زوجها فإنها تحد عليه أربعة أشهر وعشرًا”. [بخارى:1280 ومسلم:3798]

’کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے خاوند کے، کہ اس کا چار ماہ دس دن سوگ منائے گی’۔

عن أم عطية رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم: “لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تُحِدَّ فوق ثلاث، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرًا ولا تلبس ثوبًا مصبوغًا، إلا ثوب عصب، ولا تكتحل ولا تمتشط ولا تختضب ولا تمس طيبًا، إلا إذا طهرت نبذةً من قسط أو أظفار”. [بخارى:5342 ومسلم:1491 واللفظ له]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، مگر خاوند پر، (اس پر) چار مہینے دس دن (سوگ منائے) نہ وہ عَصب کے خانہ دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے، نہ سرمہ لگائے، مگر (اس دوران میں) جب (حیض سے) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار (جیسی کوئی چیز) استعمال کر لے۔‘‘
موخر الذكر دونوں خوشبوئیں نہیں، صرف بدبو کو زائل کرنے والے بخور ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ