سوال 7522

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاته
جن نظموں کے ساتھ ساز ہوتا ہے کیا ان کا سننا جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بہت زیادہ تو محسوس نہیں ہو رہا، لیکن بڑی معمولی سی، دھیمی سی شاید جھانجر والی دف کی آواز ہے۔ بہرحال، یہ جھانجر تو ہونی چاہیے، گھنگھرو نہیں ہونے چاہئیں۔
دف کی گنجائش ہے، یا ایکو(Echo) کے ذریعے سے اس آواز کو بہتر بنا لیا جاتا ہے، اس کی گنجائش بھی ہے۔
موسیقی بہرحال، اگر باقی ہو رہی ہے، خواہ ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، کم ہو یا زیادہ، ہونی نہیں چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس میں ایک چیز مزید بھی دیکھنی چاہیے کہ موبائل وغیرہ میں ایسی چیزوں کی آواز مدھم یا کم ہونے کی صورت میں مختلف ہوتی ہے لیکن جب بڑے سپیکرز میں ایسی نظمیں، نشید، ترانے چلائے جاتے ہیں تو بڑے سپیکرز کی خود کی بھی بیس وغیرہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کئی آوازیں بڑے سپیکرز میں واضح موسیقی کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس لیے احتیاط کرنی چاہیے۔ ضروری نہیں کہ جو موبائل میں موسیقی نہیں لگ رہی وہ بڑے سپیکرز، بوفرز میں بھی موسیقی نہ ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخ محترم! میری نظر جو حدیث گزری اس کی تحت تو یہ تھا کہ دف بجانا جائز ہے۔ اب کسی نے میرے سے کہا کہ بعد میں اس کی ممانعت آ گئی تھی۔ مہربانی فرما اس بارے میں راہنمائی کیجئے گا
دلیل مع حوالہ۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھا ہوا تو زیادہ بہتر ہے۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے علم کے مطابق ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ البتہ دف اس دور کی جو دف ہے بس وہی جائز ہے۔ وہ ایک تسلے نما یا ایک ڈبے کو ایک سائیڈ سے کاٹ دیا جائے۔ تو اس طرح کی وہ ایک دف ہوتی تھی بغیر جھانجر کے بغیر گھنگرو کے۔ تو اگر وہ دف ہے تو بہرحال ہمارے نزدیک ہمارا جو حاصل مطالعہ ہے وہ منسوخ نہیں ہوئی ہے نہ اس کی ممانعت آئی ہے۔ وہ جائز تھی جائز ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ