سوال 7384

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب! ایک اہم مسئلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک شخص نے تقریباً پانچ سال قبل اپنی زمین میں درخت لگائے۔ اس دوران مسلسل ان کی آبیاری، حفاظت اور دیکھ بھال کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب وہ درخت تیار ہو گئے اور اس نے پورا جنگل دو کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ:
کیا اس پر اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ کے تحت عشر واجب ہوگا؟
یا فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟
یا پھر اس پر نہ عشر ہے اور نہ فوری زکوٰۃ، جیسے گھاس وغیرہ پر عشر نہیں ہوتا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اچھا میرے محدود علم کے مطابق اگر یہ درخت لکڑی حاصل کرنے کے لیے لگائے گئے تھے نہ کہ ایسی زرعی پیداوار کے لیے جس پر شریعت نے عشر مقرر کیا ہے تو ان کی فروخت پر عشر واجب نہیں ہے۔ جہاں تک بات ہے یہ آیت و حصادہ تو اس آیت کا تعلق واضح ہے کہ ان فصلوں سے اور پھلوں سے ہے جن کی باقاعدہ کٹائی یا برداشت ہوتی ہے اور جن پر شریعت نے عشر مشروع کیا ہے۔ لکڑی کے لیے تیار کیے گئے درخت اس حکم میں داخل نہیں ہوتے۔ البتہ اگر یہ درخت تجارت کی نیت سے لگائے گئے تھے۔ یعنی یوں کہا جائے کہ ابتداء ہی سے مقصد انہیں فروخت کر کے نفع کمانا تھا۔ تو پھر تو یہ عروض تجارت کے حکم میں آئیں گے۔ ایسی صورت میں جب ان کی مالیت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے تو ان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر جو ڈھائی فیصد زکوٰۃ جو ہے وہ لازم ہوگی۔ لیکن اگر فروخت کے وقت زکوٰۃ کا سال مکمل نہیں ہوا تھا۔ یا یہ مال تجارت کی صورت میں پہلے زکوٰۃ کے دائرے میں نہیں آیا تھا تو فروخت کے دن جو زکوٰۃ جو ہے وہ واجب نہیں ہوتی۔ بلکہ فروخت کے بعد یہ رقم دیگر زکوٰۃ والے اموال کے ساتھ شامل ہوگی اور جب اس پر ایک قمری سال مکمل ہوگا تو جو رقم اس وقت موجود ہوگی اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ تو سب سے پہلے تو یہ واضح کیا جائے کہ یہ جو درخت تھے یہ لکڑی کے لیے لگائے گئے تھے یا کسی اور مقصد کے لیے لگائے گئے تھے۔ اگر یہ تجارتی مال تھا تو پھر اس پر عروض تجارت کے مطابق زکوٰۃ ہوگی عشر نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

عشر زمینی اجناس پر ہے، درخت پر نہیں، اس صورت میں آپ کو درخت بیچ کر جو قیمت حاصل ہوئی ہے، اس پر زکوٰۃ بن سکتی ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم مفتی صاحب جواب واضح نہیں ہے۔ اگر درختوں پر عشر نہیں تو ان سے حاصل شدہ قیمت پر زکوہ کیونکر ہوگی۔ اگر ان کی قیمت پر سال گزرنے پر زکوہ ہو تو وہ تو نقدی پر ہوئی نہ کہ درختوں کی مد میں؟
جواب: ظاہر ہے، ان سے حاصل شدہ قیمت پر زکوٰۃ ہے، جب آپ زکوٰۃ نکالیں تب اپنا حساب کریں اور ساتھ اس نقدی کو بھی شامل کریں جو بیچ کر حاصل ہوئی، مال تجارت پر ہی زکوٰۃ ہوتی ہے، مشینری پر تو نہیں
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم، محترم میں نے جنگل لگایا۔ پانچ سال بعد بیچ کر رقم وصول کرلی۔ اپ نے فرمایا کہ درختوں پر عشر نہیں، درست ہو گیا، لیکن بات تب گڈ مڈ ہو جاتی ہے جب آپ فرماتے ہیں کہ وصول شدہ رقم پر زکوہ ہوگی، تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ زکوہ درختوں کی قیمت وصول ہوتے ہی لاگو ہو جائے گی جیسے دفینہ ہاتھ لگنے پر ہوتی ہے۔ ؟ اگر نہیں تو پھر زکوہ کا تعلق بھی جنگل سے نہ ہوا کیونکہ زکوہ تو پھر اس وصول شدہ رقم پر سال گزرنے پر لاگو ہوگی۔ ؟ کیا میری بات درست ہے؟
جواب: اجناس پر عشر ہے! اور مال تجارت پر زکوٰۃ دی جاتی ہے، اجناس پر عشر ہوتا ہے
فروخت کے بعد حاصل شدہ نقد رقم پر عام اموالِ زکوٰۃ کے احکام لاگو ہوں گے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

سائل: جواب ابھی واضح نہیں، بات جنگل کے درختوں کی ہے کہ ان پر عشر نہیں۔ پھر ان کی قیمت کو اموال تجارت کی مد میں لانا محل نظر ہے۔ کیونکہ مال تجارت اور چیزہے اور درختوں کی آمدن اور چیزہے۔ یہ درخت نہ تو اجناس میں آتے ہیں اور نہ مال تجارت میں۔
جواب: جواب بالکل واضح ہے.
آپ کو سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے.
درختوں/ جنگلات کی جنس میں زکاۃ نہیں بالکل درست ہے۔ لیکن تجارتی سامان جسے عربی میں عروض التجارۃ کہا جاتا ہے، وہ تو کوئی بھی جنس ہو سکتی ہے۔
درخت، لکڑی، لوہا، ہیرے جواہرات، گھر، گاڑیاں، موبائل، کمپیوٹر، دوائیاں، مشینری وغیرہ کسی بھی چیز کی تجارت کی جائے تو اس میں نصاب مکمل ہونے پر اڑھائی فیصد زکاۃ دینا ہو گی۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ