سوال 7759
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
بلند آواز سے ذکر ، فرض نماز سے فارغ ہونے پر نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں جاری تھا۔
(صحیح بخاری: 841) حکم: صحیح کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة) اس حدیث میں کونسا ذکر مراد ھے؟؟؟
جواب
اس حدیث کی شرح میں شیخ الحدیث حافظ عبد الستار الحماد سلمه الله تعالى لکھتے ہیں: حدیث میں نماز کے بعد ذکر کی فضیلت منقول ہے لیکن اس ذکر سے کیا مراد ہے؟ دور حاضر میں نماز کے بعد بآواز بلند اجتماعی طور پر جو الله الله کی ضربیں لگائی جاتی ہیں، یہ قطعی طور پر غیر شرعی کام ہے بلکہ اس سے مراد الله أکبر کہنا ہے جیسا کہ آئندہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 841] اس حدیث پر امام ابن خزیمہ نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺑﺎﺏ ﺭﻓﻊ اﻟﺼﻮﺕ ﺑﺎﻟﺘﻜﺒﻴﺮ ﻭاﻟﺬﻛﺮ ﻋﻨﺪ ﻗﻀﺎء اﻹﻣﺎﻡ اﻟﺼﻼﺓ
پھر اس باب کے تحت اسی ایک حدیث کا یہ حصہ پہلے نقل کرتے ہیں پھر دوسرا حصہ دوسرے طریق سے نقل کرتے
ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻝ: «ﻛﻨﺖ ﺃﻋﺮﻑ اﻧﻘﻀﺎء ﺻﻼﺓ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺎﻟﺘﻜﺒﻴﺮ
صحیح ابن خزیمہ : 1706 یہی طریقہ امام بخاری رحمة الله عليه نے اختیار کر رکھا ہے مگر اہل بدعت نے صرف اپنے مطلب کی عبارت لینی ہوتی ہے اور باقی کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔
یہ ان اہل بدعت کی خاص پہچان ہے۔
اس حدیث پر امام ابن حبان نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺫﻛﺮ ﺇﺑﺎﺣﺔ ﺗﻜﺒﻴﺮ اﻟﻤﺄﻣﻮﻣﻴﻦ ﻋﻨﺪ ﻓﺮاﻍ اﻹﻣﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﺼﻼﺓ
صحيح ابن حبان :(2232) امام ابو نعیم الاصبهانى نے یوں عنوان قائم کیا ہے
ﺑﺎﺏ ﻓﻲ ﺭﻓﻊ اﻟﺼﻮﺕ ﺑﺎﻟﺘﻜﺒﻴﺮ ﺑﻌﺪ اﻟﺘﺴﻠﻴﻢ
المسند المستخرج على صحيح مسلم :(1293) اسی حدیث ابن عباس رضی الله عنہ کے تحت شرح صحيح البخاري لابن بطال میں لکھا ہے
ﻭﻗﻮﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ: ﺇﻥ ﺭﻓﻊ اﻟﺼﻮﺕ ﺑﺎﻟﺬﻛﺮ ﻛﺎﻥ ﺣﻴﻦ ﻳﻨﺼﺮﻑ اﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ ﻋﻠﻰ ﻋﻬﺪ اﻟﺮﺳﻮﻝ، ﻳﺪﻝ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻳﻔﻌﻞ ﺫﻟﻚ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺣﻴﻦ ﺣﺪﺙ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺑﻬﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ؛ ﺇﺫ ﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻳﻔﻌﻞ ﺫﻟﻚ اﻟﻮﻗﺖ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﻔﻌﻞ ﻋﻠﻰ ﻋﻬﺪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻣﻌﻨﻰ، ﻭﻫﺬا ﻛﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﺑﻮ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﻳﻜﺒﺮ ﻋﻨﺪ ﻛﻞ ﺧﻔﺾ ﻭﺭﻓﻊ ﻳﻘﻮﻝ: ﺃﻧﺎ ﺃﺷﺒﻬﻜﻢ ﺻﻼﺓ ﺑﺮﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﻓﻜﺎﻥ اﻟﺘﻜﺒﻴﺮ ﺑﺄﺛﺮ اﻟﺼﻠﻮاﺕ ﻣﺜﻞ ﻫﺬا ﻣﻤﺎ ﻟﻢ ﻳﻮاﻇﺐ اﻟﺮﺳﻮﻝ ﻋﻠﻴﻪ ﻃﻮﻝ ﺣﻴﺎﺗﻪ، ﻭﻓﻬﻢ ﺃﺻﺤﺎﺑﻪ ﺃﻥ ﺫﻟﻚ ﻟﻴﺲ ﺑﻼﺯﻡ ﻓﺘﺮﻛﻮﻩ ﺧﺸﻴﺔ ﺃﻥ ﻳﻈﻦ ﻣﻦ ﻗﺼﺮ ﻋﻠﻤﻪ ﺃﻧﻪ ﻣﻤﺎ ﻻ ﺗﺘﻢ اﻟﺼﻼﺓ ﺇﻻ ﺑﻪ، ﻓﻠﺬﻟﻚ ﻛﺮﻫﻪ ﻣﻦ اﻟﻔﻘﻬﺎء ﻣﻦ ﻛﺮﻫﻪ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب ابنِ عباس رضی الله عنہ نے یہ حدیث بیان کی، تو صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین ایسا نہیں کرتے تھے؛ کیونکہ اگر اس وقت ایسا کیا جاتا تھا تو ابنِ عباس رضی الله عنہ کے اس قول کی کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا جاتا تھا’ کوئی خاص معنی نہ رہ جاتے۔
اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر تکبیر کہتے اور فرماتے تھے: ‘میں تم سب سے بڑھ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم جیسی نماز پڑھنے والا ہوں’۔
اسی طرح نمازوں کے بعد تکبیر کہنا بھی ان امور میں سے تھا جن پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں ہمیشہ مواظبت (پکی اور مسلسل پابندی) نہیں فرمائی، اور صحابہ کرام نے یہ سمجھ لیا کہ یہ لازم و ضروری نہیں ہے، لہٰذا انہوں نے اسے اس ڈر سے چھوڑ دیا کہ کہیں کم علم شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کے بغیر نماز مکمل ہی نہیں ہوتی۔
اور اسی وجہ سے بعض فقہاء نے اسے ناپسند کیا جنہوں نے اسے ناپسند سمجھا۔
شرح صحيح البخاري لابن بطال :2/ 458 كشف المشكل میں ہے
اﻹﺷﺎﺭﺓ ﺑﻬﺬا اﻟﺬﻛﺮ ﺑﻌﺪ اﻟﺼﻼﺓ ﺃﻥ ﻳﺮاﺩ ﺑﻪ اﻟﺪﻋﺎء ﻭاﻟﺘﺴﺒﻴﺢ ﻭاﻟﺘﻜﺒﻴﺮ. ﻭﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ: ﻣﺎ ﻛﻨﺎ ﻧﻌﺮﻑ اﻧﻘﻀﺎء ﺻﻼﺓ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﻻ ﺑﺎﻟﺘﻜﺒﻴﺮ۔
كشف المشكل من حديث الصحيحين:2/ 344 اس روایت کی مزید شرح و توجیہ کے لئے دیکھیے شرح النووي على مسلم :5/ 84 ، اور فتح الباري لابن رجب:7/ 396 تا 416 کا مطالعہ مفید رہے گا ۔
تو جو ذکر ودعا نہر کے ساتھ پڑھنا ثابت ہے اسے پڑھا جائے لیکن اس سے مراد سہل بدعت کا مروجہ طریقہ ہرگز نہیں ہے کیونکہ یہ چیز خیر القرون میں ہرگز نہیں ملتی ہے پھر اہل علم نے جب اس کی مختلف توجیہات کر رکھی ہوں اور راجح و مرجوح واضح ہو تو کوئی خاص معنی مراد لینا باطل قرار پاتا ہے ۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




