سوال 7761
السلام علیکم قاری صاحب! میرا ایک سوال ہے، میں اس بات کو سمجھنا چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو توحید کی فطرت پر پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں سورۃ الروم آیت 30 میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کی فطرت پر جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا۔
تو میرا سوال یہ ہے کہ جب انسان کی اصل فطرت توحید ہے تو پھر شرک انسانوں میں کیسے آیا؟ کیا شرک انسان نے خود ایجاد کیا اور اختیار کیا، یا شرک کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے؟ کیونکہ قرآن میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔
تو اس معاملے میں اللہ کی تخلیق، انسان کے اختیار اور اللہ کی رضا کے درمیان کیا فرق ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیے گا۔
جزاک اللہ خیراً۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بے شک اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک مفید چیز کے متعلق جاننے کے لئے اس کی ضد کا ہونا ضروری ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کڑواہٹ کو پیدا نہ کرتا تو مٹھاس کی قدر جیسے سمجھ میں آتی۔
اگر موت نہ ہوتی تو زندگی کی قدر کون کرتا ۔
صحت کی قدر بیمار کو ہی معلوم ہوتی ہے۔
خیر اور شر ایک دوسرے کی ضد ہیں سورۃ فلق میں ہے “اور میں پناہ چاہتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے” توحید اللہ کی طرف سے ہے اس کی ضد شرک ہے شرک کو یہ نام رب نے دیا ہے جبکہ اس کی طرف دعوت شیطان کی طرف سے ہے۔
توحید صراط مستقیم ہے اور ابلیس نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دربار الہی میں کہا تھا “میں تیری سیدھی راہ پر ان کے آگے ناکہ لگاؤں گا۔
میں ان آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں سے وار کروں گا اور تو اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا”(سورہ الاعراف) اللہ تعالی نے انسان مختار محض بنایا ہے یعنی کچھ باتوں کا اسے اختیار دیا اور کچھ کا نہیں دیا۔
اس نے ہمیں دیکھنے کے لئے آنکھیں دی ہیں اب اگر کوئی یہ کہے کہ آج میں ناک سے دیکھوں گا تو ہر گز نہیں دیکھ سکے گا۔
اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایک پاؤں اٹھا کر قیام کرو تو یہ آپ کے اختیار میں ہے لیکن اگر کہے اب دوسرا پاؤں بھی اٹھا لو تو ایسا کرنا آپ کے لئے ناممکن ہوگا۔
اللہ تعالی نے نیکی اور بدی کے راستے انسان کو بتاکر کوئی سا راستہ اختیار کرنے کا مجاز بنا دیا ہے۔
یہ اختیار فرشتوں کو نہیں دیا وہ مجبور محض ہیں جبکہ انسان مختار محض ہے۔
فضیلۃ العالم احسان الحق حفظہ اللہ




