سوال 7614
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ!
غزوہ احد میں مسلم لشکر کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعین کردہ ایک گروہ کی طرف سے غلط فہمی کی وجہ سے وقتی طور پر کچھ نقصان اٹھانا پڑا جو بعد میں مسلمانوں نے سنبھل کر واپس جنگ کا پانسہ پلٹ دیا تھا تو اس غلط فہمی کو کسی تقریر و تحریر میں وقتی پسپائی کے طور پر پیش کرنا اور یہ سمجھانا کہ اس کے بعد اس واقعے سے سبق لیتے ہوئے جو حکمت عملی مسلم لشکر کے امیر اختیار کرتے تھے ان کی وجہ سے آئندہ جنگوں میں فتح یاب رہے۔
کیا اس طرح بیان کرنا مناسب ہے؟
رہنمائی فرمادیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔
غزوہ احد میں مسلمانوں کے ظاہری نقصان کی حکمتیں اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت 140 141 142 میں بیان کی ہیں۔
اگر کوئی اسی طرح اللہ کی حکمت کے طور پر سوال میں بیان کردہ حکمت بھی بیان کردے تو ان شاءاللہ کوئی مضائقہ نہیں۔
اس طرح کے واقعات میں دور رس نتائج مثمرہ اور فوائد کے پہلو بیان کرنا دفاع صحابہ کی ایک صورت ہے۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ




