سوال 7105

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حافظ قرآن کے متعلق فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ دس افراد کو اپنے ساتھ جنت میں لے کر جائے گا اور اس کے والدین کو سونے کا تاج پہنایا جائے گا کیا یہ ثابت ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حافظ قرآن شفاعت کرے گا اور اس کے والدین کو سونے کا تاج پہنایا جائے گا یہ دونوں روایات ثابت نہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَبَّانِ بْنِ فَائِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا. [سنن ابوداؤد: 1453]

معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہوگی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، (پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا، کیا درجہ ہوگا۔
اس کی سند میں زبان بن فائد اور سھل بن معاذ الجھنی ضعیف راوی ہیں
2: حافظ قرآن کے شفاعت کرنے والی روایت اس طرح ہے:

قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْہَرَہُ فَأَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ أَدْخَلَہُ اللہُ بِہِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَہُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَہْلِ بَيْتِہِ كُلُّہُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ [ترمذی: 2905]

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کرلیا،جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس (قرآن) کی سفارش قبول کرے گاجن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی.
حفص بن سلیمان، ضعیف راوی ہے۔ [مجمع الزوائد: 163/10] سندہ، ضعیف
حافظ قرآن کی فضیلت کے بارے میں یہ حدیث ثابت ہے:
[سنن ابوداؤد: 1464]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے .
سندہ،صحیح
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ