سوال 7223
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا حال ہے سب شیوخ کا امید ہے خیر و عافیت سے ہوں گے ایک سوال تھا کہ جو عورتیں پراندہ لگاتی ہیں بالوں میں وہ کس حکم میں ہے کہیں وگ لگانے کے حکم میں تو نہیں اور اس کے جواز ہے یا عدم جواز جزاکم اللہ خیرا کثیرا
جواب
وعلیکم السلام
بسم اللہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔
پراندہ جو ہماری خواتین استعمال کرتی ہیں، اگرچہ آج کل اس کا رواج کافی کم ہو چکا ہے، لیکن دیہاتوں میں اب بھی یہ سلسلہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو خواتین پراندہ لگاتی ہیں، کیا یہ بال جوڑنے کے حکم میں آتا ہے؟
میرے عزیز! یہ بال جوڑنے کے ضمن میں نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پراندہ ایک الگ چیز ہوتی ہے۔ اگر کالا بھی ہو تو عموماً ریشم یا سوتی دھاگے سے بنا ہوتا ہے، اور اگر کسی دوسرے رنگ کا ہو تو پھر معاملہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بال نہیں ہیں۔
بنیادی طور پر خواتین اسے زیب و زینت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ زینت کے لیے اسے استعمال کریں اور کوئی غیر محرم انہیں نہ دیکھے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں، کیونکہ یہ بال جوڑنے کے حکم میں شامل نہیں ہوتا۔
البتہ اگر بالوں کی صحت اور لمبائی کا خیال رکھا جائے تو اس کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ مثلاً دیسی گھی اور مناسب غذا استعمال کی جائے تو بال قدرتی طور پر بہتر اور لمبے ہو سکتے ہیں۔
آج کل بہت سی ایسی چیزیں خواتین اور مردوں کی خوراک کا حصہ بن گئی ہیں جن کا صحت اور تندرستی سے کوئی خاص تعلق نہیں، بلکہ بعض اوقات وہ مختلف بیماریوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ مثلاً فاسٹ فوڈ، پاستا، نوڈلز، برگر، پیزا، سینڈوچ، شوارما، کولڈ ڈرنکس، بازاری جوسز اور اسی طرح کی دیگر چیزیں۔
اگر ان چیزوں میں اعتدال رکھا جائے اور دیسی و روایتی غذا کو ترجیح دی جائے تو بالوں سمیت عمومی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے، اور بسا اوقات پراندہ لگانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ بال خود بخود ماشاء اللہ کافی لمبے ہو جاتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ خیر فرمائے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ پراندہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
پراندہ پہلے بھی عورتیں لگاتی رہی ہیں اس کو بالوں سے ملا کر جوڑ لگانا نہیں کہتے۔ بالوں میں بالوں کا جوڑ منع ہے۔
خوبصورتی کے لیے کلپ لگانا کیچر لگانا پونی لگانا یا پراندہ باندھنا یہ ہر معاشرے میں اپنے حساب سے رہا ہے اس کی نکیر نہیں کی گئی۔
ہمارے شیخ مبشر ربانی رحمہ اللہ نے غالباً اس پہ رد کیا ہوا تھا اور ان کا کہنا یہی تھا کہ یہ جائز نہیں ہے لیکن ہماری معلومات کے مطابق یہ جائز ہے امام احمد رحمہ اللہ سے بھی غالباً اس طرح کا سوال ہوا تھا تو آپ نے اسے جائز قرار دیا تھا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




