سوال 7222
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ عید نماز نفل ہے سنت ہے یا فرض ہے اسکی وضاحت کردیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔
سوال یہ ہے کہ عید کی نماز نفل ہے، سنت ہے یا فرض؟
اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ بلاشبہ عید کی نماز نفل ہے، لیکن صرف ان الفاظ پر اکتفا کرنا کافی نہیں کہ “نفل ہی تو ہے، اگر چھوڑ دیں گے تو کون سی قیامت آ جائے گی!”
عرض یہ ہے کہ یہ نفل ہونے کے باوجود شریعت کا ایک تاکیدی حکم ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ جن خواتین کے پاس پردہ کرنے کے لیے الگ چادر نہ ہو، وہ ایک بڑی چادر میں دو دو خواتین عیدگاہ کی طرف آئیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ عید کی نماز نفل ہے، لیکن عام نوافل کی طرح نہیں، بلکہ اس کی تاکید بہت زیادہ ہے۔
ویسے بھی ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جو فرض نہیں ہوتے، لیکن ہم انہیں بڑی پابندی اور اہتمام کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ لہٰذا عید کی نماز کے بارے میں بھی یہی رویہ ہونا چاہیے کہ اس کی اہمیت اور تاکید کو ملحوظ رکھا جائے۔
پس یہ نماز اگرچہ نفل ہے، لیکن شریعت میں اس کا مقام اور اس کی تاکید ایسی ہے کہ اسے معمولی سمجھ کر ترک کرنا درست رویہ نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




