سوال 7622
[1083] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَۃَ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمُّہَا بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَمَاتَ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا، وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقاً، فَابْتَغَتْ أُمُّہَا صَدَاقَہَا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ، وَلَوْ کَانَ لَہَا صَدَاقٌ لَمْ نُمْسِکْہُ وَلَمْ نَظْلِمْہَا۔ فَأَبَتْ أُمُّہَا أَنْ تَقْبَلَ ذَلِکَ، فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَضَی أَنْ لاَ صَدَاقَ لَہَا وَلَہَا الْمِیرَاثُ۔
مشائخ یہ کیا واقعہ ہے حوالہ اور وضاحت کردیں۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم یہ مؤطا امام مالک اور سنن بیھقی وغیرہ کا اثر ہے اور سند اسکی صحیح ہے۔
اصل میں جمہور فقہاء طلاق کے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے شوہر کی وفات قبل الدخول و الصداق کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ایسی عورت کے لیے مہر مثل ہوگا۔
لیکن بعض صحابہ جن میں عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ طلاق کا مسئلہ الگ ہے اور وفات کا مسئلہ الگ ہے۔
اگر دخول اور حق مہر مقرر کیے بغیر شوہر فوت ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں بیوہ کو وراثت تو ملے گی لیکن مہر مثل نہیں دیا جائے گا۔
جیسا کہ اس اثر میں عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھما کا موقف واضح ہے۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ




