سوال 7637

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم ایک بھائی کا سوال ہے کہ جماع کے بغیر ولیمہ ہوسکتاہے کہ نہیں اس پر دلیل چاہیے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
درست یہی ہے کہ زوجین کو تنہائی میسر کردیں خواہ کچھ گھنٹے کے لیے، اس کے بعد ولیمہ کرلیں۔
(تعلق قائم نہ بھی ہو، صرف خلوت کا میسر آجانا کہ اگر اس دوران تعلق قائم کرنا چاہیں تو کرسکیں،ہی کافی ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل یہی ہے کہ خلوت کے بعد ہی ولیمہ کیا جائے۔
(بخاری#5166)
رخصتی سے قبل ولیمہ کرنا، یا رخصتی والے دن خلوت کا وقت میسر آنے سے پہلے ہی ولیمہ کردینا خلاف سنت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شریعت میں ولیمے کے وقت کی کوئی حد بندی اور شرط بیان نہیں کی گئی، اس لیے اہل علم کا موقف یہی ہے کہ ولیمہ نکاح سے لیکر شادی کے ختم ہونے تک کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے اور اس میں ہمبستری و خلوت بھی شرط نہیں ہے۔
چونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی اور جو ولیمہ کیا، اس میں ترتیب یہی ہے کہ پہلے شب باشی اور پھر ولیمہ، اس لیے یہ ترتیب مسنون ہے، اور اس کا اہتمام کرنا اچھی بات ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جائز ہے، جس کے لیے خلاف سنت کے الفاظ بھی مناسب معلوم نہیں ہوتے، واللہ اعلم۔

قال البخاري : ” بَاب حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ ، وَمَنْ أَوْلَمَ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَنَحْوَهُ ، وَلَمْ يُوَقِّتْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَلَا يَوْمَيْنِ “.
قال الحافظ : ” أَيْ لَمْ يَجْعَل لِلْوَلِيمَةِ وَقْتًا مُعَيَّنًا يَخْتَصّ بِهِ الْإِيجَاب أَوْ الِاسْتِحْبَاب ، وَأُخِذَ ذَلِكَ مِنْ الْإِطْلَاق “.

بعض لوگوں کے ہاں غلط فہمی اس حد تک ہے کہ ولیمہ کرنے کے لیے باقاعدہ معلوم کرتے ہیں کہ خلوت و جماع ہوا ہے کہ نہیں؟ جو پہلے کر لے، سمجھا جاتا ہے کہ شاید ولیمہ ہی نہیں ہوا۔
سائل کا سوال بھی اسی حساسیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
حالانکہ شریعت میں اس حوالے سے کوئی سختی، پابندی یا شرط مذکور نہیں ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ