سوال 7387

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
مشایخ کرام ان دونوں کے معانی اور فرق واضح کر دیں ( وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا )
بارک اللہ لک

جواب

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
“شیخ عبدالسلام بن محمد”
قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ ظن سے مراد ایسی تہمت ہے جس کا کوئی سبب نہ ہو مثلا ایک آدمی کے بدکار یا شرابی ہونے کا خیال دل میں جما لینا حالانکہ اس سے ایسی کوئی بات سرزد نہیں ہوئی کہ اسے ایسا سمجھا جائے۔ اس لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا «ولا تجسسوا» جاسوسی مت کرو۔ کیونکہ جب کسی شخص کے برے ہونے کا خیال دل میں جگہ پکڑ لیتا ہے حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی تو آدمی وہ بات ثابت کرنے کے لئے جاسوسی کرتا ہے ٹوہ لگاتا ہے کان لگاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا
(شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 160)
تجسس سے مراد لوگوں کے پوشیدہ عیوب اور برائیوں کی کھوج لگانا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو پردہ ڈال رکھا ہے اسے فاش کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
البتہ اس حکم سے وہ صورت مستثنیٰ ہے جب تجسس کسی انسان کو ہلاکت یا اس جیسی کسی بڑی مصیبت سے بچانے کا واحد ذریعہ ہو۔ مثلاً کسی کو اطلاع ملے کہ فلاں شخص کسی آدمی کو تنہائی میں لے گیا ہے تاکہ اسے قتل کر دے، تو ایسی صورت میں حقیقت معلوم کرنا جائز بلکہ ضرورت کے تحت مطلوب ہو سکتا ہے۔
پھر فرمایا:
“وَلَا تَحَسَّسُوا” یعنی تحسس بھی نہ کرو۔
تحسس سے مراد غائب یا پوشیدہ خبروں اور حالات کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ