شیخ الحدیث علامہ فاروق احمد راشدی رحمہ اللہ (شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ نیائیں چوک گوجرانوالہ)۔
قضائے الہی سے وفات پاگئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کوصبر جمیل عطا فرمائے ،ان کی نماز جنازہ 27 جون 2026 بروز ہفتہ صبح 10 بجے
جامع مسجد مکرم ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی ان شاءاللہ
اک دیا اور بجھا اور بڑھی تاریکی!
شیخ فاروق احمد راشدی فى ذمة اللّٰه
شیخ محترم کا شمار اھل حدیث کے قدیم اساتذہ و مشائخ میں ہوتا تھا۔ آپ کا شمار مولانا محمد اسماعیل سلفی، امام حافظ محمد محدث گوندلوی اور استاذ الاساتذہ مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی رحمه اللّٰه کے تلامذہ میں ہوتا تھا۔
آنجاب عرصہ دراز سے اپنے شیخ مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی رحمه اللّٰه کی مسند پر گوجراں والا کے قدیم مدرسے جامعہ اسلامیہ میں بہ طور شیخ الحدیث تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔
راقم کو مولانا رحمه اللّٰه سے دو سال قبل شرف ملاقات حاصل ہوا تھا۔ ان کے ساتھ بہت طویل مجلس رہی، شیخ محترم بہت روحانی شخصیت تھے، طلبہ و علماء کو تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ ذکر و فکر کی خصوصی تاکید کیا کرتے تھے، اپنے انداز تدریس کے متعلق بتانے لگے کہ میں نے اپنے ساتھ ایک لاٹھی رکھی ہوئی یے کسی طالب علم کو دوران درس سونے دیتا ہوں اور نہ ہی کسی اور سرگرمی میں مشغول ہونے دیتا ہوں۔ اخبار کا روزانہ باقاعدگی سے مطالعہ کیا کرتے تھے، اور اپنے ایک لخت جگر کے ساتھ باقاعدگی سے بعد نماز عصر اس کے مطب پر بیٹھ کر آنے والے مریضوں کو دیکھا کرتے اور ان کا علاج کیا کرتے تھے۔ اعصابی طور پر بھی آخر تک بڑے مضبوط رہے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جوانی میں ہی اپنی جسمانی صحت کی طرف توجہ مرکوز رکھی ، بتایا کہ وہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں دوران تدریس نماز عصر کے بعد شیخ الحدیث حافظ بنیامین طور رحمه اللّٰه وغیرہ اساتذہ جامعہ اور طلبہ کے ساتھ مل کر والی بال بھی باقاعدگی سے کھیلا کرتے تھے۔ شیخ محترم سے صحیح بخاری شریف کا قیک درسی نسخہ بھی مجھے دکھایا تھا جس کے متعلق انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے والد مکرم رحمه اللّٰه نے بھی اس ہی نسخے صحیح بخاری شریف ہڑھی تھی اور بعد ازاں انہوں نے خود بھی حافظ محمد گوندلوی رحمه اللّٰه سے اسی نسخے پر صحیح بخاری شریف کا درس لیا تھا اور ساری زندگی اسی نسخے سے پڑھاتے رہے ، شیخ مکرم کی وصیت تھی کہ ان کی وفات کے بعد قبر میں وہ بخاری شریف کا نسخہ ان کے سینے پر رکھ کر ان کے ساتھ ہی دفنا دیا جائے۔
اپنے استاذ مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی رحمه اللّٰه کی نیکی توی و تدین اور علمی پختگی سے وہ حد درجہ متاثر تھے ۔ مولانا اسماعیل سلفی رحمه اللّٰه کے معتمد تلمیذ تھے انہی کے حکم پر جامعہ سلفیہ فیصل آباد تدریس کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ برادر مکرم مولانا عبدالقدوس راشد صاحب حفظه اللّٰه کی معیت میں حضرت کے ہاں جا کر ان کا ایک طویل سوانحی انٹرویو بھی کیا تھا۔ اس روز شیخ محترم نے ہماری بڑی بے تکلف میزبانی کی جس سے ہم خوب لطف اندوز ہوئے۔
شیخ محترم سے آخری دفعہ ملاقات مولانا عتیق اللّٰه سلفی مرحوم کے جنازے پر ہوئی وہ کرسی پر ایک طرف تشریف فرما تھے میں نے جا کر سلام عرض کیا اور پوچھا کیا حال ہے آپ کا ؟ تو برجستہ فرمایا ” الآن کما کان ” اور کھلکھلا کر ہنس دیے۔
شومئی قسمت کہ گجرانوالہ بارہا جانا ہوا لیکن شیخ محترم سے دوبارہ ملاقات نہیں کر سکا۔ قدر اللّٰه و ما شاء فعل۔
شیخ محترم کی وفات علمی حلقوں میں بہت بڑا خلا ہے جو پر ہوتا نظر نہیں آرہا۔
اللّٰه تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شیخ محترم کی خدمات اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ، ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور ان کے تلامذہ و مستفدین کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے آمین ۔
شریک غم: رانا عبداللّٰه مرتضی السلفی



