سوال (1729)

اگر بندہ نفل روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

ظاہر ہے کہ روزہ تو ٹوٹ جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

نفلى روزہ ركھنے والا شخص کو حق حاصل ہے كہ وہ روزہ مكمل كرے يا پھر توڑ دے، ليكن روزہ مكمل كرنا بہتر اور افضل ہے۔اس ليے جس نے بھى نفلی روزہ ركھا اور روزہ توڑنا چاہے تو وہ ايسا كر سكتا ہے ، چاہے وہ كھانا كھا كر روزہ توڑے يا پھر جماع وغيرہ كے ساتھ روزے توڑ دے ۔

فضیلۃ الباحث کامران الہیٰ ظہیر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جماع کی وجہ سے، یعنی صحبت اور جماعِ دخولیہ (مباشرتِ دخولیہ) کی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔البتہ اس میں کفارہ نہیں ہوگا، صرف قضا ہوگی۔ قضا تو ہوگی، لیکن کفارہ نہیں ہوگا، کیونکہ کفارہ صرف فرض روزے میں ہوتا ہے۔اور قضا بھی اس کی اپنی چاہت پر ہے، کیونکہ یہ نفلی روزہ ہے۔ اگر قضا دے دے تو یہ اولیٰ ہے، البتہ کفارہ کوئی نہیں۔