سوال 7183
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت شیخ الحدیث صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
میرا ایک سوال ہے کہ آج کل بہت سے لوگ مختلف قسم کی آن لائن گیمز کھیلتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں ان گیمز کو کھیلنے کا کیا حکم ہے؟ کیا ہر قسم کی آن لائن گیم جائز ہے، یا اس کی کچھ شرائط ہیں؟ اگر کوئی گیم وقت کا ضیاع، نماز میں غفلت، یا کسی ناجائز کام (مثلاً جوا وغیرہ) کا سبب بنے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی واضح رہنمائی فرما دیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے یہ اصول سمجھ لیجیے کہ شریعت نے آن لائن گیمز کا کوئی مستقل اور الگ حکم بیان نہیں کیا، کیونکہ یہ جدید ایجادات میں سے ہیں۔ لہٰذا ان کا حکم قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ کے عمومی اصولوں کی روشنی میں متعین کیا جائے گا۔
سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ دنیاوی معاملات اور اشیاء اپنی اصل کے اعتبار سے مباح اور جائز ہیں، جب تک ان کی حرمت پر کوئی دلیل نہ آ جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾
“وہی ہے جس نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔”
یہ آیت اس قاعدے کی بنیاد ہے۔ لہٰذا ہر آن لائن یا آف لائن گیم کو صرف “گیم” ہونے کی وجہ سے حرام نہیں کہا جا سکتا، بلکہ اس کے اندر موجود مفاسد، نتائج اور ممکنہ نقصانات کو دیکھا جائے گا۔
یہی اصول صرف آن لائن گیمز پر نہیں بلکہ فزیکل گیمز، جیسے کرکٹ، فٹبال، ہاکی، گھڑسواری، تیراکی وغیرہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان کے حکم کا تعین بھی انہی مفاسد اور فوائد کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
پہلی بات
ہر وہ چیز حرام ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کر دے۔ اگر کوئی آن لائن گیم انسان کو نماز، قرآن مجید کی تلاوت، اذکار، صبح و شام کے اذکار یا دیگر فرائض و واجبات سے غافل کر رہی ہے تو ایسی گیم کھیلنا جائز نہیں، خواہ وہ آن لائن ہو، آف لائن ہو یا فزیکل کھیل ہو۔
دوسری بات
وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ﴾
اسی طرح صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔
اور جامع ترمذی کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں گزارا۔ لہٰذا جو کھیل انسان کے گھنٹوں اور دن ضائع کر دے، اس کے بارے میں یقیناً باز پرس ہوگی۔
تیسری بات
جس کھیل میں جوا شامل ہو، وہ ہر صورت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ…﴾ (سورۃ المائدہ)
اگر کھیلنے کے لیے رقم لگانی پڑے، شرط لگائی جائے یا جیتنے کی بنیاد پر مالی انعام ملے، تو یہ جوئے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو شرعاً حرام ہے۔
چوتھی بات
شریعت کا ایک اہم اصول ہے:
لا ضرر ولا ضرار
“نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔”
اگر کوئی کھیل ذہنی، جسمانی، اخلاقی یا معاشرتی نقصان کا سبب بن رہا ہو، یا نشے کی طرح انسان کو اپنا عادی بنا دے، تو اس سے اجتناب لازم ہے۔
پانچویں بات
بہت سی ویڈیو گیمز اور کمپیوٹر گیمز میں عریانی، فحاشی، شرکیہ علامات، جادو، بتوں کی تعظیم، شیطانی کرداروں کی عظمت یا بے مقصد قتل و تشدد کو عام کیا جاتا ہے۔ ایسی چیزوں سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ یہ انسان کو شرک، معصیت یا گناہوں کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
چھٹی بات
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لغو اور بے فائدہ کاموں سے اعراض کرتے ہیں۔ اگرچہ ہر کھیل لغو نہیں، لیکن جب کھیل انسان کی زندگی کا مقصد بن جائے اور اس کی ذمہ داریوں کو متاثر کرنے لگے، تو وہ لغو اور لایعنی کاموں میں داخل ہو جاتا ہے۔
آخری بات
اسلام نے جائز تفریح کی اجازت دی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی، حبشیوں کی نیزہ بازی دیکھی، اور تیراندازی اور گھڑسواری کی ترغیب بھی دی۔ یہ تمام باتیں صحیح احادیث میں موجود ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایسا کھیل یا تفریح جو حلال ہو، اعتدال کے ساتھ ہو، فرائض سے غافل نہ کرے، کسی حرام چیز پر مشتمل نہ ہو اور کسی حرام کام کی طرف لے جانے کا سبب بھی نہ بنے، وہ اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے۔
لہٰذا اگر درج ذیل شرائط پوری ہوں تو آن لائن گیم بطور تفریح کھیلی جا سکتی ہے:
* اس میں جوا نہ ہو۔
* فحاشی، شرک، موسیقی یا دیگر حرام امور نہ ہوں۔
* فرائض اور عبادات متاثر نہ ہوں۔
* والدین، بیوی، بچوں اور دیگر حقوق میں کوتاہی نہ ہو۔
* وقت کا بے جا ضیاع نہ ہو۔
* اخلاقی، ذہنی یا جسمانی نقصان نہ ہو۔
اگر ان میں سے کوئی خرابی موجود ہو تو ایسی گیم جائز نہیں ہوگی، اور اس سے اجتناب کرنا ہی افضل اور بہتر ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ


