سوال 7108
السلام علیکم و رحمۃ اللہ شیخ محترم
ترتیب نزولی کے اعتبار سے موجودہ قرآن کیوں نہیں اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جب اہل علم کسی معاملے کی حکمت تلاش کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ ہر بار کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ کبھی ان کی بات بالکل درست ثابت ہوتی ہے اور کبھی اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ دراصل شریعت ہر حکم کی وجہ یا حکمت خود بیان نہیں کرتی؛ کبھی کچھ باتیں واضح کر دی جاتی ہیں اور کبھی انہیں پردہِ غیب میں رکھا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔
جہاں تک قرآن کریم کو نزولی ترتیب کے بجائے اس کی موجودہ ترتیب میں مرتب کرنے کا تعلق ہے، تو یہ وحیِ خفی (اللہ کے پوشیدہ اشارے) کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ بات حدیث کی حجیت کے لیے ایک بہت مضبوط دلیل ہے۔ اصل میں کسی بھی انسان کے ایمان کا امتحان وہیں ہوتا ہے جہاں یہ دیکھا جائے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے عمل کو کتنی خوش دلی سے قبول کرتا ہے۔
آپ قبلہ کی تبدیلی والی بحث ہی دیکھ لیں؛ وہاں بھی تو یہی کہا گیا کہ قبلے کی تبدیلی کا مقصد صرف یہ دیکھنا تھا کہ کون رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنے پرانے راستوں کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی آزمائش ہی تو تھی۔ بالکل اسی طرح حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے فرمایا: “میں نے آپ کو اس لیے بھیجا تاکہ آپ کو بھی آزماؤں اور آپ کے ذریعے لوگوں کا بھی امتحان لوں۔”
چنانچہ یہ سب اہل ایمان کے لیے ایک امتحان ہے۔ سچے مومن تو فورا کہہ دیتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، جبکہ جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے، وہ کیوں اور کیسے کے وسوسوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
وحی خفی کی وضاحت فرما دیں۔
جواب: وحیِ خفی سے مراد وہ پیغام ہے جو قرآنِ پاک کے علاوہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل فرماتا تھا۔ قرآنِ مجید کو وحیِ جلی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کے نزول کے وقت صحابہ کرام بھی اس کے اثرات محسوس کرتے تھے۔ اس دوران آپ ﷺ پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی تھی، جیسے پسینہ آنا یا جسم مبارک کا بوجھ بڑھ جانا۔
اس کے برعکس، وحیِ خفی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ الہام، دل میں بات ڈالنے (القائ) یا سچے خوابوں کے ذریعے پیارے نبی ﷺ تک پہنچاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیثِ مبارکہ کو ہم وحیِ خفی مانتے ہیں اور اسے دین میں حجت (دلیل) تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ اس کی بنیاد بھی اللہ کی طرف سے ہی ہے۔ اگر آپ اس موضوع کی گہرائی میں جانا چاہیں تو کتابوں میں اس پر بہت تفصیل سے اور بہت خوبصورت بحث ملتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




