سوال 7643

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا قرآن پڑھنے والے پڑھانے والے کو تحائف کے طور پیسے دے یا کوئی اور چیز، پڑھانے والے کے منع کرنے کے باوجود بھی دیں یہ کہہ کر آپ بھی تو محنت کرواتے ہو کیا یہ جائز ہے؟ اور یہ بھی جب ہمارا دل کیا کرے گا ہم دیں گے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
تعلیمِ قرآن یا دینی امور کے عوض تحائف اور ہدایا لینا جائز ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ البتہ دلائل کی روشنی میں پیسے طے کیے جا سکتے ہیں، مشاہرہ اور وظیفہ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔
کتاب اللہ، کتاب اللہ سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس پر اجرت لی جائے اور اجر حاصل کیا جائے۔ دنیاوی اجرت بھی لے لی جائے اور اخروی اجر بھی، لیکن نظر اخروی اجر پر ہونی چاہیے، اس کے معاملے میں زیادہ لالچ نہیں ہونا چاہیے۔
البتہ کچھ نہ کچھ طے کر لیا جائے تو یہ جائز ہے، اور اس کے دلائل بھی موجود ہیں، اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔
احناف اس کا انکار کرتے ہیں، مگر آج وہ سب سے زیادہ لیتے ہیں۔ یہاں آکر وہ اپنی فقہ کو بدل دیتے ہیں۔ طلاق کے مسئلے میں کوئی اپنی فقہ کو بدلتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ طریقہ جائز نہیں، حنفی کو حنفی رہنا چاہیے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ تنخواہ کے معاملے میں حنفی کو حنفی رہنا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ