سوال 7495

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بارہ ربیع الاول کو خاص کر کے سیرت کانفرنس کرنا بھی بدعت ہے، بلکہ ایک باپ اپنے بچوں کو صرف اسی دن سیرت کی کتاب پڑھائے تو یہ بھی عید میلاد منانے میں شامل ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالباسط فہیم حفظہ اللہ، فاضل مدینہ یونیورسٹی
میرے معزز علماء کرام! میں بندہ ناچیز کا ایک سوال ہے۔ میں ایک مسکین سا شخص ہوں، کوئی بے ادبی کروں تو معذرت خواہ ہوں۔
میرا سوال ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں خاص کانفرنس، سیرت کی نمائش یعنی Exhibition کروانا، سیرت کورسز کروانا، نعت کے مقابلے کروانا اور دیگر اعمال کرنا، خاص ربیع الاول کے مہینے میں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
شیخنا عبد الباسط فہیم حفظہ اللہ کے نزدیک خاص اعمال ربیع الاول میں بدعت ہیں، اور یہی منہج میں نے اہل علم کا بھی پایا ہے، اور انہوں نے ربیع الاول میں کی جانے والی خاص عبادات کا رد بھی کیا ہے۔
مجھے جاننا ہے کہ ربیع الاول میں خاص اعمال سر انجام دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ بدعت نہیں؟ کیا بریلوی فرقے کے لوگ صحیح ہیں، کیونکہ وہ بھی تو یہی کام کرتے ہیں جو اب برصغیر کے اہل حدیث کے ہاں رائج ہونے لگ پڑے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، آپ کا سوال خاصی تفصیل کا حامل ہے۔ ہر وہ کام جو ربیع الاول میں کیا جائے، محض اس وجہ سے بدعت نہیں بن جاتا کہ وہ ربیع الاول میں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسے ربیع الاول کے ساتھ بطورِ خاص دینی فضیلت یا شعار کے طور پر، یا اسے موسمِ عبادت یا سنت سمجھ کر مخصوص کیا گیا ہے یا نہیں؟ اصل بات ہمارے سامنے یہ آنی چاہیے۔
دین میں کسی بھی عبادت یا نیکی کے لیے صرف اصل عمل کا ثابت ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے سبب، نوعیت، طریقۂ کار، مقدار اور وقت کا بھی سنت سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے ہمارے اسلاف رحمہم اللہ نے عبادت کے شرعی معیار میں وقت کی موافقت کو بھی بنیادی شرط قرار دیا ہے، جیسا کہ حج ہے، نماز ہے، روزہ ہے اور اسی طرح دیگر عبادات ہیں۔
لہٰذا عمومی طور پر سیرتِ رسول ﷺ پڑھنا اور پڑھانا عظیم نیکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی محبت، اتباع اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنا یقیناً بہت بڑی سعادت ہے۔ نعتِ رسول ﷺ بھی اگر شرعی حدود میں ہو تو اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے۔ قرآنِ مجید اور حدیث کے مقابلے، علمی مسابقات اور سیرت کے مطالعاتی پروگرام اپنی اصل میں جائز و مفید ہیں۔
لیکن ان جائز اعمال کو یہ سمجھ کر ہر سال ربیع الاول کے ساتھ خاص کرنا کہ اس مہینے میں یہ اعمال بذاتِ خود زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، یا ربیع الاول سیرت کے ایسے خصوصی اجتماعات کا شرعی موسم ہے، تو اس تخصیص کے لیے ہمیں دلیل درکار ہے۔
بعض اہلِ علم اسی مناسبت سے کہتے ہیں کہ سیرت کا بیان ہر وقت، یعنی پورا سال، باعثِ اجر ہے۔ اسے صرف ربیع الاول کے ساتھ خاص کرنا اہلِ بدعات کا چلن ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اب آپ نے جو بات کی ہے کہ ربیع الاول میں خصوصی طور پر سیرت کانفرنسز کی جاتی ہیں، اگر یہ صرف انتظامی سہولت کے طور پر ہو کہ مثلاً ادارہ کہتا ہے کہ سال کے دوسرے پروگراموں کے ساتھ اس مہینے میں بھی ایک سیرت کانفرنس کر لیتے ہیں، اور اس کے لیے کوئی خاص شرعی فضیلت نہ سمجھی جائے، تو محض کانفرنس کا انعقاد بدعت نہیں کہلائے گا۔
لیکن اسے ہر سال ربیع الاول کا باقاعدہ دینی شعار بنا لیا جائے اور یہ تصور ہو کہ ربیع الاول میں سیرت کانفرنس کی خاص فضیلت ہے، تو یہ تخصیص محلِ نظر ہے۔
یا یہ سوچ ہو کہ اہلِ بدعات چونکہ گیارہ یا بارہ ربیع الاول کو بدعات کی ترویج کرتے ہیں، تو ان کو دعوت دینے کے لیے، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے، انہیں کاؤنٹر کرنے کے لیے ہم بھی سیرت کانفرنس کریں جس میں دین کو بیان کریں، تو اس کے حوالے سے بھی بے شمار علماء کے ہاں تحفظات ہیں۔
سیرت Exhibition اگر نمائش کا مقصد سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیم، تاریخ، غزوات، اخلاق اور دعوت کو لوگوں تک پہنچانا ہو تو یہ ایک تعلیمی وسیلہ ہے۔ اسے ربیع الاول میں لگانے کو بذاتِ خود بدعت نہیں کہا جائے گا، لیکن ہر سال اگر یہ کام تقریب سمجھ کر لازم یا خصوصی ثواب کا کام قرار دیا جائے گا تو پھر وہی اشکال پیدا ہوگا۔
سیرت کے کورسز کے حوالے سے بھی یہی کہا جائے گا۔ اسی طرح نعت کے مقابلوں میں بھی یہی بات کی جائے گی۔
لیکن ہم یہاں پر ان تمام شکوک و شبہات سے بچنے کے لیے، اور اہلِ بدعات کے ساتھ مشابہت سے بچنے کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیرتِ طیبہ کے حوالے سے کسی بھی طرح کا پروگرام اسے ربیع الاول کے ساتھ خاص نہ کیا جائے، بلکہ سال کے دیگر دنوں کو آپ اپنے انتظامی طور پر فکس کر لیجیے۔ کوئی سا بھی دن رکھ لیجیے، اس میں کوئی مضائقہ یا کوئی ایشو نہیں ہے۔ بس یہ ہم کہہ سکتے ہیں تاکہ اس کی اہلِ بدعات کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔
اب اس میں اور بھی بہت ساری باتیں کی جا سکتی ہیں، لیکن ہمارے بعض اہلِ علم یہ کہتے ہیں کہ ربیع الاول کو سیرتِ نبوی ﷺ کے پڑھنے، پڑھانے اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے سے خالی نہ رکھا جائے، بلکہ سیرت کو پورے سال عام کیا جائے۔ ربیع الاول میں بھی اگر کسی تعلیمی یا دعوتی مصلحت سے سیرت کانفرنس، Exhibition یا کورس رکھا جائے تو اسے محض وقت کی وجہ سے بدعت نہ کہا جائے۔
البتہ کروانے والوں کے ذہن میں ایسی کوئی سوچ نہ ہو جس کی بنیاد پر ہم اسے بدعت کے زمرے میں داخل کریں۔
واللہ اعلم۔ باقی آپ مشائخ کی مزید آراء کا انتظار کر لیجیے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

سائل: شیخ حفظہ اللہ کا یہ بیان بھی ربیع الاول میں ہی منظر عام پر آیا ہے، بلکہ ہم سب کے ہاں یہ خاص موضوع ربیع الاول کے اندر ہی شروع ہوتا ہے۔
کیا یہ بھی بدعت شمار ہوگا؟
جواب: موقع کی مناسبت سے کوئی کام کرنا جائز ہے، اس کو واجب، حرام یا سنت و بدعت قرار دینا درست نہیں۔
انتظامی طور پر کوئی دن یا تاریخ مقرر کرنا بھی جائز و مباح ہے۔
جائز کو واجب یا سنت کہنے والے بھی غلط ہیں اور اسے حرام یا بدعت کہنے والے بھی غلط ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بذاتِ خود تو سیرت کانفرنس ہو یا کوئی بھی کانفرنس، کسی بھی مہینے میں رکھنے میں حرج نہیں ہوتا۔ لیکن موجودہ دور میں جو صورت بنتی جا رہی ہے، اس کا تدارک ضروری ہے۔
جیسے نعت خواں، شاعر حضرات ربیع الاول میں نئے اشعار، نعتیں متعارف کروانے میں سال بھر کی نسبت زیادہ متحرک نظر آتے ہیں اور باقاعدہ لکھتے ہیں: “ربیع الاول کا خاص تحفہ” اور اس جیسے دیگر کلمات۔
اسی طرح ٹی وی چینل والے ربیع الاول میں “خاص نشریات/خصوصی ٹرانسمیشنز” کرتے ہیں۔ ایک معروف اہل حدیث خطیب صاحب لوگوں کو آواز بلند کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: “پتا چلنا چاہیے ربیع الاول کی محفل ہے۔”
اسی طرح بعض فلیکسز پر لکھا جاتا ہے:
“نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مبارک مہینے میں عظیم الشان سیرت کانفرنس”
اس کے ساتھ بعض لوگ تو ہر سال 12 ربیع الاول کو سیرت النبی کانفرنس کرواتے ہیں اور انہیں اسی مقررہ تاریخ کو سیرت کانفرنس کرتے ہوئے کئی کئی سال گزر چکے ہیں۔
بعض نے سیرت النبی کانفرنس کی فلیکس میں لکھا تھا:
“فرقہ واریت سے قطعی بالاتر”
ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح محسوس ہوتا ہے کہ یہ چیزیں اتفاقاً نہیں ہیں بلکہ ان سب سے ایک خاص ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
لہٰذا مشابہت سے بچنے کے لیے احتیاط کی ضرورت ہے، ورنہ خطباء حضرات اس میں مزید غلو کرتے چلے جائیں گے۔
مشابہ الفاظ کی بجائے بدعات کا رد کرنے کے لیے “دفاع منہج سلف” یا کسی بھی اور نام سے دروس و کانفرنس ہو سکتی ہیں، بغیر تخصیص کے، جس سے کم از کم یہ تاثر نہ جائے کہ یہ کانفرنسیں خاص ربیع الاول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد، آپ ﷺ کی پیدائش کی نسبت سے ہیں۔
مسئلہ سیرت کا نہیں کہ اہل بدعت سیرت کی بجائے جمالِ مصطفیٰ ﷺ کیوں بیان کرتے ہیں، بلکہ حقیقتاً تو دونوں بیان کرنا ہی دین ہے۔
مسئلہ صرف خاص مہینے اور خاص ایام کی نسبت کا تاثر دینے کا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر معاملات کو گہری نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: کیا ایسا دس محرم کو غمِ حسین والوں کی حمایت و تائید میں کرنا بھی درست ہوگا، شیخ محترم؟
جواب: غمِ حسین والوں کی اصلاح کرنا درست ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: بس یہی مسئلہ یہاں ہے، اصلاح اور سیرت بیان کرنے میں شیخ محترم فرق ملحوظ رکھا جائے گا۔
شیخ محترم، کما نعلم ما قال رسولنا: “من تشبہ بقوم…”
مطلب جس کسی نے جب بھی، عفواً۔۔۔ انت اعلم منی علماً وفضلاً۔۔۔ بس رائے سمجھئے گا، فتویٰ نہیں، نہ اس کا اہل ہوں
جواب: اصلاح اور سیرت میں کیسے فرق کیا جائے؟
یہ تو غیر ضروری تشدد اور تعنت ہے۔
ایک شخص سیرت کانفرنس کرے تو آپ کہیں کہ آپ نے بدعت کی ہے، لیکن اسی طرح کا جلسہ آپ کریں لیکن آپ کہیں: میں تو اصلاح کر رہا ہوں۔
(انتظامی طور پر کوئی دن یا تاریخ مقرر کرنا بھی جائز و مباح ہے)
اس بات پر توجہ کریں:
1۔ کچھ لوگ میلاد منا رہے ہیں اور اس ضمن میں بدعت و خرافات کی ترویج کر رہے ہیں۔
2۔ کچھ لوگ ان بدعت و خرافات کا رد اور اس کے مد مقابل صحیح سنت اور سیرت بیان کر رہے ہیں۔
3۔ ایک تیسری قسم یہ کہہ رہی ہے کہ جس طرح میلاد منانا غلط ہے، اسی طرح میلادیوں کے رد میں سیرت بیان کرنا بھی غلط ہے۔
تینوں کام ربیع الاول کے اندر ہی ہو رہے ہیں۔ 🙂

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم! بدعت اس صورت بنتی ہے جب کسی عمل کو شرعی پہلو کا رنگ دے کر التزام کیا جائے۔۔۔ تو ایسی صورت میں سیرت کانفرنس اصلاح تو نہ کہلائی؟؟؟ مشابہت ہی ہوگی۔۔۔
کبار علماء یا سعودی لجنۃ کیا کہتے ہیں اس بارے؟
جواب: “التزام” کی بجائے شرعی اصطلاح استعمال کریں:
فرض، سنت، جائز، مکروہ، حرام۔
ربیع الاول میں سیرت بیان کرنا ان میں سے کیا ہے؟

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: بدعت لکھا ہی نہیں آپ نے یہاں۔
جواب: جن کے نزدیک دوسرا بدعت ہے تو تیسرا بھی اسی وجہ کی بنیاد پر بدعت ہے۔ یہ ایک الزامی جواب ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: 3 نمبر والا جملہ قابلِ تفصیل ہے۔
یعنی کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ 10 محرم کو واقعہ کربلا بیان کرنا شیعوں کے رد میں غلط ہے۔
اب یہ لوگ درست کہہ رہے ہیں یا نہیں؟
جواب: جائز ہے۔
محسن بھائی! جائز کا مطلب سمجھتے ہیں؟
جائز لفظ بولنے سے ضروری سمجھنا، التزام کرنا، خاص کرنا، یہ سب چیزیں نکل جاتی ہیں۔
جہاں تک تشبہ وغیرہ کا معاملہ ہے تو اس میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ آپ کسی بھی جائز کام کو صرف تشبہ کی آڑ میں ناجائز یا بدعت قرار دینا شروع کر دیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: پس خلاصہ یہ کہ وہ اگر جھنڈیاں چھوڑ دیں تو سفید جھنڈا آپ نے دکھا دیا ہے ان کو اس دن کا۔
لہٰذا جائز میں اتنی گنجائش ہے کہ کئی ایک اعمال و امور جن کا وجود قرونِ ثلاثہ میں نہ ہو، خواہ کوئی ٹولہ بھی ہو، آپ نے خواہ ان کی دیکھا دیکھی کیا ہو، تو وہ آپ کا اپنا عمل کہلائے گا اور جائز، نہ کہ مشابہت۔۔۔ سبحان اللہ۔
جواب: یہ سب باتیں علمی لحاظ سے ہیں۔
حکمت اور مصلحت کے پہلو سے بھی سیرت کے بیان کو بدعت وغیرہ کہنے کا موقف کبھی بھی قابلِ عمل نہیں ہو سکتا۔
آپ ربیع الاول میں سیرت وغیرہ کے بیان کو ترک کر دیں، چند سالوں میں ہی رزلٹ ملے گا کہ آپ کے اہل حدیث لوگ بھی بدعت و خرافات کی محفلوں میں شریک ہونا شروع ہو جائیں گے۔
اس کی مثال اس طرح سمجھیں کہ احناف کے نزدیک بستیوں میں اور گاؤں کے اندر جمعہ کروانا جائز نہیں تھا، جس کا نقصان انہیں یہ ہوا کہ ان کے لوگ اہل حدیث حضرات کے پیچھے جمعہ پڑھنا شروع ہو گئے۔ مجبوراً انہیں بھی یہ کام شروع کرنا پڑا۔
اللہ کے رسول ﷺ جب عکاظ وغیرہ کا میلہ لگتا تھا تو انہی دنوں میں وہاں اصلاح کرنے جاتے تھے، ورنہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ آپ عکاظ کے دنوں میں اصلاح کیوں کرتے ہیں، باقی دنوں میں اصلاح کرنے پر اکتفا کریں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: اس کو برا نہ منایا جائے اور خالصتاً اس کو میرے علم میں اضافہ سمجھ کر جواب دیا جائے:
کیا 12 ربیع الاول کو سیرت کانفرنس کرنا باعثِ ثواب ہے یا نہیں؟
اگر نہیں، پھر تو فضول خرچ کہلائی اور لاکھوں لوگوں کا وقت اور لاکھوں روپیہ ضائع ہوا، جس پر عقوبت ہے۔
اگر ہاں! تو اس کے جواز پر کوئی ایک دلیل یا قرونِ ثلاثہ سے دکھا دیا جائے کہ انہوں نے اس دن کو خاص کرکے سیرت کانفرنس کی ہو، کیونکہ یہ دن بعد میں تو نہیں بنا نا؟
جواب: 12 ربیع الاول کو سیرت بیان کرنا اسی طرح جائز ہے جیسا کہ سال کے کسی بھی دن میں۔
جو اس کو لازم، فرض و مستحب سمجھتا ہے یا اس کو ممنوع سمجھتا ہے، دلیل اس کے ذمے ہے۔
جس طرح جائز کو لازم قرار دینا غلط ہے، اسی طرح جائز چیز کو ناجائز قرار دینا بھی غلط ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: اگر نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کوئی یہ جشن والی بدعت کرتا تو آپ اسے منع کرتے یا نہ کرتے؟
جواب: بالکل ضرور منع فرماتے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم۔
دوسرا فریق بدعت کی تعریف پر غور کرے تو یوں طول نہ دی جائے۔
اہل بدعت کے مقابل اہل حدیث، اہل سنت کی اصطلاح سلف صالحین نے استعمال کی، اور گمراہ کن عقائد و نظریات کا رد بھی سلف صالحین نے کیا اور اہل بدعت کے دور میں رد کیا۔
آج بھی مخصوص ایام میں بدعات و خرافات کے مقابل محبتِ رسول، عقیدتِ رسول اکرم ﷺ کو اور آپ ﷺ کی شان و عظمت کی صحیح تصویر و تعبیر بیان کرنا واجب ہے۔
اور سال بھر کے بقیہ دنوں میں اولیٰ و افضل ہے۔
باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات جب بھی، جس بھی پلیٹ فارم اور جگہ پر نشر ہوں گے، اس کا جواب و رد اور صحیح عقائد و نظریات بھی اسی پلیٹ فارم اور جگہ سے دیا جائے گا۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل (اول)
شیخ محترم! اگر 12 ربیع الاول کو وہ شخص سیرت بیان کر رہا ہے تو اس کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ میں ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت نہیں بیان کر رہا۔
بلکہ اس نے کہا انسان نے کہ ربیع الاول کو میں نے سیرت بیان کرنی ہے تو کر دی۔ یہ اس کی نیت نہیں کہ خاص 12 ربیع الاول کو میں سیرت بیان کروں گا کیونکہ اس میں کچھ خاص فضیلت ہے، کوئی خاص ثواب ہے۔
نہیں، اس صورت میں یہ جائز ہے۔ اگر میں کوئی غلطی کروں تو آپ میری اصلاح کر دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
مجھے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ ربیع الاول کو اس لیے کانفرنس کی جائے کہ بدعات کا رد کیا جائے، تو یہ جائز ہے اور یہ مفید کام ہے۔
لیکن اگر ربیع الاول کو اس لیے کانفرنس رکھی جائے کہ ربیع الاول میں اعمال کرنے کی کوئی خاص فضیلت ہے، تو یہ بدعت ہے۔
پھر وہی موقف شیخ عبد الباسط فہیم حفظہ اللہ کا، کہ سیرت کی کتاب پڑھانا بھی بدعت ہے۔
پھر یہ دیکھا جائے کہ ربیع الاول کے شروع میں بدعات کے رد کا زیادہ فائدہ ہے یا پھر 12 ربیع الاول کو؟ اگر 12 ربیع الاول کو بدعات کے رد کا زیادہ فائدہ ہے، تو پھر 12 ربیع الاول کو رد کیا جائے اور زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔
مگر یہ بات ہم ذہن میں رکھ رہے ہیں کہ ہمارا تعلق ربیع الاول میں بدعات کے رد کو فضیلت سمجھنے سے نہیں بلکہ اس میں کی جانے والی بدعات کے رد سے ہے۔
اس بات سے یہ شبہ دور ہو جاتا ہے کہ خاص ربیع الاول کے مہینے میں کی جانے والی بدعات کا رد ربیع الاول میں کرنا بدعت نہیں۔
وگرنہ یہ کیا بات ہوئی کہ نہی عن المنکر کے لیے ایک مہینہ خاص کر لیا جائے؟ یہ تو خود بدعت معلوم ہوتی ہے۔
تعلق ہمارا بدعت کے رد سے ہے، کسی بھی مہینے میں ہو۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ صرف ربیع الاول ہی وہ مہینہ ہے جس میں بدعات کا رد کیا جائے۔
میں نے کچھ غلط کہا ہو تو اصلاح کر دیں، شیوخ۔
جزاكم الله خيراً

سائل: شیخ محترم! پھر ان میں سے ٹھیک کون ہے؟

جواب: دوسرا کام:
کچھ لوگ ان بدعت و خرافات کا رد اور اس کے مد مقابل صحیح سنت اور سیرت بیان کر رہے ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

اہل حدیث جو سیرت کانفرنسز کرواتے ہیں، ان کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ ردِ بدعت کے لیے ایسا کرتے ہیں، کیونکہ اس مہینے میں کثرت کے ساتھ بدعت کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ تو کانفرنسوں کا انعقاد ہونا چاہیے۔
اگر آپ لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے ان کانفرنسز کا انعقاد کرتے ہیں تو یقیناً یہ شرعی فریضہ ہیں، کیونکہ جب برائی کا ارتکاب کیا جا رہا ہو تو اس برائی سے لوگوں کو روکنا ٹوکنا شرعی فریضہ ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی برائی دیکھو تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکو۔ ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں، آپ کے پاس قوتِ نافذہ نہیں، پھر زبان سے روکو۔ اگر زبان سے بھی نہیں روک سکتے، خطرہ ہے، فتنہ ہے، پھر اپنے دل سے ہی برا جانو اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔
تو کم از کم ہم اپنی زبان سے لوگوں کو ان بدعات سے روک کر اس شرعی فریضے پر عمل کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر مقصد اہل بدعت کو خوش کرنا ہو، جیسا کہ میلادِ مصطفیٰ اس نام سے کانفرنسز کروانا، یا کانفرنس کر کے اس میں اہل بدعت کو خوش کرنے کی کوشش کرنا، جمالِ مصطفیٰ بیان کرنا، سیرتِ مصطفیٰ اس طرح بیان کرنا کہ بجائے ان لوگوں کی اصلاح ہونے کے وہ سمجھیں کہ یہ لوگ بھی تو یہی کام کر رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔
ان دنوں میں تو آپ بدعت کے رد کے لیے میدان میں آئیں، لوگوں کو صحیح طریقہ بتائیں، سنت بتائیں، ان کو صراطِ مستقیم کی طرف راغب کریں، تب تو کامیابی ہے۔
ورنہ پھر اہل بدعت کی نقالی ہی رہ جائے گی۔
اللہ رب العزت ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔
حافظ ابو یحییٰ نور پوری حفظہ اللہ

فضیلۃ العالم احسان الحق حفظہ اللہ

سائل: ہم شیخ حفظہ اللہ سے 100٪ متفق ہیں۔
ردِ بدعات کے حوالے سے کام صحیح ہے، باقی جو کچھ ہو رہا ہے وہ عقلِ سلیم کے مطابق نہیں۔
ہماری ہی جماعت کے لوگ اب بدعات کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس پر شدید نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، علماء کرام کی۔

جواب: یہ بات مناسب ہے، لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے ہاں اصولوں کی تطبیق میں توازن نہیں رہتا۔
جو کام خود کریں وہ سنت اور اس کے لیے گنجائش نکال لیتے ہیں، اور دوسروں پر اسی قسم کے کام کرنے کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔
اسی کی طرف اوپر اشارہ بھی کیا تھا کہ ربیع الاول میں سب لوگ ہی بعض مخصوص موضوعات اور مجالس منعقد کرتے ہیں، کچھ کو درست اور کچھ کو غلط سمجھا جاتا ہے۔
ربیع الاول میں سیرت کے موضوع پر جلسہ کروا کر اس میں بیان کیا جاتا ہے کہ ربیع الاول کو خاص کرکے سیرت بیان کرنا بھی بدعت ہے!
ربیع الاول میں کتنے فیصد اہل حدیث ہیں جو میلادیوں کے طرز پر محفلیں کرواتے ہیں؟
سب کا مقصد سنت و سیرت کا بیان اور بدعات و خرافات کا رد اور اصلاح ہی ہوتا ہے۔
بعض پوسٹس اور تحریریں دیکھ کر سنت اور بدعت کو سمجھنے کے حوالے سے واضح طور پر خلط نظر آ رہا ہے اور تعبیر میں بھی کمزوری نظر آ رہی ہے۔
جس وجہ سے ناسمجھ لوگ بدظن ہوتے ہیں کہ یہ تو سیرتِ رسول ﷺ کے بیان کو بھی بدعت قرار دے رہے ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

ربیع الاول میں اگر اہل بدعت کی مشابہت نہیں کرنی بلکہ بدعات کا رد کرنا مقصود ہو، تو ردِ بدعات کے لیے “سیرت النبی”، “آمدِ مصطفیٰ ﷺ” کے نام کی کانفرنسوں کی بجائے “تحفظِ منہجِ سلف” یا “دفاعِ اسلام” کے نام سے کانفرنس بھی تو ہو سکتی ہیں۔
مشابہت سے بچنے کے لیے بسا اوقات جائز چیزیں بھی ترک کر دینے ہی میں خیر ہے۔

الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا۔۔۔

باقی ربیع الاول میں مطلقاً کانفرنسوں کی بات الگ ہے۔ خاص بارہ ربیع الاول کو ہر سال سالانہ کانفرنسوں کا جو سلسلہ ہے، یہ اصل قابلِ غور ہے۔
کئی کانفرنسیں 8، 10 سالوں سے مسلسل سیرت کے موضوع پر 12 ربیع الاول ہی کو منعقد کی جاتی ہیں، جیسا کہ شیخ خلیل الرحمٰن جاوید حفظہ اللہ کے ایک بیان میں واضح اس کی مذمت سامنے ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

اگر تو کوئی واقعۃً 12 ربیع الاول کی کسی خصوصیت و فضیلت کا اعتقاد رکھتا ہے تو بالکل بدعت ہے۔
لیکن اگر انتظامی اور مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی دن خاص کر لیا جاتا ہے تو اسے بدعت قرار دینا حد سے تجاوز ہے۔
فجر کے بعد دروس کا اہتمام، مغرب کے بعد دروس کا اہتمام، ہفتہ کی شام یا اتوار کے دن دروس کے بے شمار شیڈولز انتظامی اور معاشرتی مصلحت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
بعض علماء اپنی پوری پوری زندگیاں ان کے مطابق گزار دیتے ہیں۔
اس قسم کی انتظامی یا معاشرتی خصوصیت و پابندی کو شرعی سمجھنا اور بدعت کا حکم لگانا درست نہیں۔
میری اپنی روٹین یہ ہے کہ میں اب اپنے جمعہ کے موضوعات میں بھی دنوں اور مہینوں کی مناسبت کا خیال نہیں کرتا، کیونکہ مسلسل کئی کئی بار یہ موضوعات بیان کر چکا ہوں۔
یہ دوسرا سال ہے کہ ربیع الاول کی مناسبت سے میں نے کسی بھی جمعے یا تقریر میں لفظ تک نہیں بولا، کیونکہ ہمارے نزدیک ربیع الاول اور ربیع الثانی میں کوئی فرق نہیں، 12 ربیع الاول اور 11 یا 13 میں کوئی فرق نہیں ہے۔
لیکن خود اسی قسم کے موضوعات بیان بھی کرنا، لیکن دوسروں پر بدعت کا حکم بھی لگاتے رہنا، یہ رویہ درست نہیں۔
ہمیں ایسے علمائے کرام کی نیت اور علم و فضل میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن وہ جس باریک اور دقیق فرق کی بنیاد پر خود کو سنت پر اور دوسروں کو بدعت پر سمجھتے ہیں، عوام الناس اتنی باریک بینی کی متحمل نہیں ہے۔
یہاں جتنے اہل علم کے نام لیے گئے ہیں، ان کے ربیع الاول کے شیڈولز ملاحظہ فرمائیں، جلسوں کے عنوانات اور ان کے موضوعات دیکھیں، اور پھر فیصلہ کریں کہ وہ خود کیا کر رہے ہیں اور کس بنیاد پر کسی دوسرے کے کام کو بدعت قرار دے رہے ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

جی بالکل، بارک اللہ فیک۔
علم کے لیے تو کوئی بھی دن اور وقت اپنی اور لوگوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختص کر سکتے ہیں۔ اس کی تو ہرگز نفی نہیں۔
صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 70 میں اس کی دلیل ہے۔
مسئلہ صرف ربیع الاول کی خاص نسبت کا تاثر دینے میں ہے، جیسا کہ چند مثالوں سے خطباء حضرات کا طرزِ عمل بیان کیا کہ وہ کس طرح مشابہ اعمال میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔
ان میں احتیاط کے پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: اگر اصلاح ہی مقصود ہے، تو ہم آپ سے متفق ہیں شیخ محترم۔
وگرنہ ثواب سمجھ کر کام کرنا ربیع الاول میں، یہ بدعت نہیں تو پھر اور کیا ہے؟

جواب: ہر نیکی کے کام کا ثواب کی تو امید رکھی جاتی ہے۔
لیکن کوئی عملی مثال دیں کہ کوئی اہل حدیث ربیع الاول میں صرف اس لیے جلسہ یا کانفرنس کرواتے ہوں کہ ربیع الاول میں زیادہ ثواب ملتا ہے؟

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: اس قسم کی انتظامی یا معاشرتی خصوصیت و پابندی کو شرعی سمجھنا۔
شیخ محترم! اس نکتے کی وضاحت کر دیں۔
“شرعی سمجھنا” یعنی آپ نے امور جو بیان کیے ہیں وہ شرعی نہیں ہیں؟

جواب: کام سارے شرعی ہیں، لیکن ان کے لیے جو وقت خاص کیا ہے، وہ خصوصیت شرعی نہیں بلکہ انتظامی و مصلحت کی بنیاد پر ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

اس متعلق قرائن بھی موجود ہیں۔ میرا جواب جو تقریب صحیح البخاری کے جواب میں تھا، اسے ملاحظہ کریں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

انتظامی ہو تو حرج نہیں۔
لیکن جب ہر سال فکس کرکے نسل در نسل کئی دہائیوں سے 12 ربیع الاول کو سیرت یا آمدِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنسوں کا انعقاد ہوگا تو اس میں مشابہت کا پہلو تو ہر صورت آئے گا ہی، خواہ نیت کچھ بھی ہو۔
مسئلہ مشابہت کا ہے۔ نیت تو احناف میں سے بھی کئی لوگوں کی یہ نہیں ہوگی کہ 12 کو کانفرنس کا الگ سے کوئی اجر ہے۔
جس طرح سیاہ لباس 9، 10 محرم کو پہننے سے مشابہت لازم آتی ہی ہے، خواہ نیت کچھ بھی ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

آپ نقطۂ نظر نہیں سمجھ رہے ہیں۔
براہِ کرم حافظ خضر حیات صاحب نے جو کچھ عرض کیا ہے، اس پر غور کریں اور بدعت و مشابہت کس صورت بنتی ہے، اس پر توجہ کریں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ