سوال 7493

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سکول کے سرکاری ملازمین ہیں اہل حدیث ہونے کے باوجود ولادت مصطفی پر کانفرنس یا پروگرام کریں تو کیسا ہے جب کہ وہ ایسا خود کرنے والے نہیں ہیں صرف حکومتی سطح پر آرڈر آنے پر ولادت مصطفی پروگرام کرانا کیسا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس میں بنیادی طور پر دو باتیں ہیں۔
ایک تو یہ کہ اللہ کے نبی ﷺ کی یومِ ولادت کو بطورِ دینی تہوار یا باقاعدہ مذہبی پروگرام کے طور پر منانا، سادہ سی بات ہے، یہ کسی بھی کیفیت میں درست نہیں۔ اس کے بارے میں دلائل بیان کرنے کی ضرورت نہیں، یہ بات ہر اہلِ حدیث جانتا ہے۔
دوسرا مسئلہ سرکاری ملازم کا حکومتی حکم کی تعمیل میں ایسے کسی پروگرام کے انتظام میں حصہ لینا ہے۔ یہ معاملہ کچھ پیچیدہ ہے۔ اس میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر آپ اس میں حصہ نہ لیں تو آپ کو حکومتی یا ادارتی طور پر کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو شوکاز نوٹس ملے، معطلی ہو جائے یا ملازمت کے حوالے سے کوئی کارروائی ہو۔
تو یہاں دو راستے ہیں: ایک عزیمت والا اور ایک رخصت والا۔
عزیمت کا مطلب یہ ہے کہ آپ صراحت کے ساتھ کہہ دیں کہ میں اس کا قائل نہیں ہوں اور میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ بات ختم۔
مجھے کراچی یونیورسٹی میں شروع شروع میں اس طرح کے دو تین پروگراموں میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔ یہ 2017، 2018 کی بات ہے۔ تو میں نے سوچا کہ کیا کروں؟ میں نے حافظ استاد محترم، حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ شیخ صاحب! اس طرح کا معاملہ ہے اور یونیورسٹی میں مجھے عید میلاد النبی ﷺ کے پروگرام میں بطورِ چیف گیسٹ بلایا گیا ہے۔
حافظ صاحب نے فرمایا کہ آپ ضرور جائیں، لیکن اپنی گفتگو میں عید میلاد النبی، جشنِ عید میلاد النبی، میلاد، بدعت، کفر اور شرک جیسے الفاظ استعمال نہیں کریں گے۔
آپ صرف تین باتیں ان کے سامنے رکھیں:
نمبر ایک: اللہ کے نبی ﷺ کی پیدائش پر خوش ہونا۔ یہ تو ہر مسلمان کے لیے ایک سادہ سی بات ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت پر خوش ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ البتہ خوشی منانے کے طریقوں کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔ آپ انہیں یہ بتائیں کہ اللہ کے نبی ﷺ کی ولادت اور آپ کی نبوت و بعثت، یہ سب خوش ہونے کے جواز کا پہلو رکھتے ہیں۔
نمبر دو: موجودہ تناظر میں، بغیر کسی کو ہائی لائٹ کیے اور بغیر نام لیے، جو لوگ خوشی منانے کے لیے مختلف کام کرتے ہیں، ان کاموں کی حیثیت حکمت اور تدبر کے ساتھ واضح کریں۔
نمبر تین: اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ محبت کے عملی تقاضے بیان کریں۔
الحمدللہ، میں نے تو یہی کام کیا ہے۔ یہ رخصت والا پہلو ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔
لیکن اگر آپ محض گفتگو کے لیے نہیں بلکہ انتظامی طور پر پروگرام میں شریک ہونے کے لیے انوائٹڈ ہیں، تو میری ذاتی رائے یہی ہے کہ عزیمت والا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی صراحت کے ساتھ کہہ دیں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا، اور اگر شوکاز نوٹس آتا ہے تو اسے ویلکم کریں۔
ان شاء اللہ العزیز، ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ میرے ساتھ بھی ایک مرتبہ ایسا ہوا تھا اور مجھے ٹیچر سوسائٹی میں بھی اور اساتذہ کے درمیان بھی بہت ساری باتیں سننا پڑیں۔ یہ بھی سننا پڑا کہ یہ وہابی ہے، یہ گستاخ ہے۔ لیکن اب میں سکھی ہوں، الحمدللہ۔ اب سب کو معلوم ہے کہ میں ان معاملات میں ایسی کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتا۔
لہٰذا اس مسئلے میں کوئی عمومی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ ہر شخص اپنی صورتحال دیکھے، اپنے حالات کا جائزہ لے اور پھر اس کی مناسبت سے فیصلہ کرے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔
اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ ان شاء اللہ العزیز۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے عالمی گروپ میں ڈاکٹر صاحب یہ بات آئی تھی کہ علامہ نور پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان سے کسی نے کہا کہ نبی علیہ السلام تو میلے ٹھیلوں میں جاتے تھے ان لوگوں کے تو نور پوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: ہاں جاتے تھے مگر اپنا انہوں نے میلہ کوئی نہیں لگایا۔ تو یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر کوئی بورڈ پھنس جائے تو انسان سیرت کا پہلو اختیار کر کے سیرت کو اجاگر کر دے، بیان کر دے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کے جواب میں کچھ چیزیں مزید ذکر دی جائیں تو سب کے لیے بات سمجھنے میں آسانی رہے گی ان شاءاللہ ۔
1 ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے بارہ ربیع الاول کے حوالے سے جتنے بھی پروگرامز ہیں ان سب میں اصلا شرکت ناجائز ہی ہے خواہ ایسے پروگرامز کا انعقاد حکومت کی طرف سے ہو یا عوامی طبقہ کی طرف سے۔
2 حکومتی اداروں میں ملازمین کو اگر کسی خاص صورت میں شرکت کرنا ہی پڑتی ہے تو اس کو فقط کمزور ترین عمل سمجھتے ہوئے مجبوری کے حکم میں اس پر خاموشی اختیار کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سے ہرگز مطلب نہیں کہ اگر ایسے پروگرامز میں موضوع سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے کی طرف ترغیب ہو تو وہ درست شمار ہوگا ورنہ تو شر کا راستہ اس طریقہ سے کھلے گا کہ وفات کے تیسرے چوتھے دن میت کے لیے جو “درس قرآن” کے نام پر اکٹھ کیا جاتا ہے اس میں جانے کا بھی جواز بنتا جائے گا کہ اس موقع پر رد بدعات یا فکر آخرت کے موضوعات بیان کیے جائیں۔ جبکہ اصلا تو ایسی جگہ درس دینا ہی ناجائز ہے
موضوع کونسا ہو یہ تو مسئلہ ہی الگ ہے۔ جس طرح سود لینا ہی حرام ہے سود کی رقم خرچ کہاں کرنی یہ تو مسئلہ ہی الگ ہے۔
3 اتنی بات ضرور ہے کہ کوئی شخص ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ذاتی طور پر بارہ ربیع الاول کے کسی حکومتی پروگرام میں شرکت کرنے پر مجبور ہوہی جائے تو اس صورت میں اسے کہا جائے گا کہ وہ موضوع مختلف بیان کردے جیسے سیرت پر عمل کرنے کی ترغیب وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سے یہ تاثر کبھی نہیں لینا چاہیے کہ ہر جگہ موضوع مختلف بیان کردیا جائے تو اس مجلس میں شرکت کرنا جائز ہوجائے گا ایسا ہرگز نہیں ہے۔
جیسے میت کی تعزیت کے لیے جائیں تو اجتماعی دعا کرنا ہی بدعت ہے، اس دعا میں کلمات آپنے کونسے کہے، کونسی دعائیں کیں یہ مسئلہ الگ ہے۔
4 جو کام، جو اکٹھ کرنا ہی اصلا ناجائز ہو اس کے انتظامات کرنا، ایسے پروگرامز کا انعقاد کرنا بھی ناجائز ہے، حتی کہ اگر انعقاد کرنے والے کوئی اور ہوں تب بھی اس میں شرکت ناجائز ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ