سوال 7762

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شیخ محترم ایک لڑکی گھر سے اس وجہ سے نکل جاتی ہے کہ اس کے گھر والے اس پر بہت ظلم کرتے مارتے ہیں کھانا نہیں دیتے باپ سوتیلا ہے یہاں تک کہ گلے میں کپڑا ڈال کر بھی مارتے ہیں تو اس لڑکی کی منگنی ہوچکی ہے چاچو کے بیٹے کے ساتھ ۔۔۔لڑکی کے ماں باپ کہتے کہ تم نے وہاں جواب دینا ہے جہاں ہم کہتے وہاں شادی کرو اور جہاں کہتے وہ لڑکے نشئی اور اچھے نہیں ہیں۔ تو لڑکی گھر سے نکل جاتی ہے اور اپنے چاچو گھر چلے جاتی جہاں اس کی منگنی ہوئی ہے اور انکو کہتی میں نے اب واپس نہیں جانا وہ اسی حالت میں کسی وکیل کو ملتے ہیں اور نکاح ہوجاتا ہے انکا عدالتی نکاح۔

اب اس میں ولی شامل نہیں ولی کی اجازت نہیں کسی عالم نے نکاح نہیں پڑھایا کیا یہ نکاح درست ہوگا جبکہ لڑکی راضی اس کے چچا جو اب اس کے سسر ہیں وہ بھی ساتھ تھے۔۔۔۔

جبکہ گھر لڑکی کو جان کو بھی خطرہ ہے۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ولی کیوں نہیں ہے؟ یہاں ولی موجود ہے اور وہ چچا ہے۔ سوتیلے باپ کی نسبت چچا زیادہ حقدار ہے ولایت کا لہذا ولی موجود ہے نکاح کی چار شرطیں پوری کی جائیں اور نکاح ہو جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل

چچا بھی سوتیلا ہے یعنی کے سوتیلے باپ کا بھائی ہے۔ سگا لڑکی کا چچا، پھوپھو کوئی ہے ہی نہیں؟

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اس مسئلے کا حل بھی موجود ہے اور بڑا آسان حل ہے۔ اسی چچا کو ساتھ لے کر دیہات میں نمبردار، کونسلر، یونین کونسل کا چیئرمین یا کوئی سرکردہ آدمی ہوگا، اس سے رابطہ کیا جائے۔

اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عدالت میں دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے کہ میں ایک یتیم لڑکی ہوں، میرے باپ کا سایہ سر پر نہیں ہے اور میں فلاں شخص سے اپنی مرضی اور خوشی سے نکاح کرنا چاہتی ہوں، لہٰذا مجھے اس کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔

اس طرح عدالت کی طرف سے تھوڑا سا خرچہ کرکے باقاعدہ اجازت نامہ مل جاتا ہے، جو ولی کے قائم مقام ہوتا ہے۔

لیکن یہ بات یاد رکھیے کہ عدالت آخری حل ہے۔ اس سے پہلے جو کچھ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا ہے، یعنی محلے اور برادری کے سرکردہ افراد سے رابطہ کیا جائے۔ ان شاء اللہ، ان کے تعاون سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ