سوال (2648)

تین وتر ایک سلام اور ایک تشھد کے ساتھ پڑھنے کے بارے جو حدیث ہے، وہ درکار ہے؟

جواب

لاتوتروا بثلاث تشبهوا المغرب.
[مستدرک للحاکم: 1137]

حدیث میں آتا ہے کہ مغرب کے مشابہ نہ بناؤ، اب مشابہت کو توڑنا ہے، اس کےدو طریقے ہیں، تین وتر پڑھنے کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ یہ ہے کہ دو رکعات پڑھ کر سلام پھیر دیں اور ایک رکعت الگ پڑھیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تین ایک ساتھ پڑھے، بیچ میں تشھد نہیں بیٹھنا ہے، آخری رکعت میں ہی تشھد کرنا ہے۔ باقی حدیث میں آتا ہے کہ ایک،تین، پانچ اور سات پڑھ لو۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

لاتوتروا بثلاث تشبهوا المغرب، [مستدرک للحاکم: 1137]

فضیلۃ الباحث نعمان خلیق حفظہ اللہ

سائل: اس میں وضاحت نہیں ہے کہ تین اکٹھے ایک تشھد ایک سلام کے ساتھ پڑھے ہیں۔
جواب: ابن عباس رضى الله عنه سے مروى ہے۔

“الوتر كصلوة المغرب إلا أنه لا تقعد فى الثانيه”

“وتر اور مغرب میں فرق یہی ہے کہ وتر کی دوسری رکعت میں تشہد نہیں ہے”
[محلی ابن حزم ص: 35 ج: 3]
شارح بخاری حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتح الباری ج 3 ص 134 میں مختلف روایات میں تطبیق دیتے ہوئے یہی بات کہی ہے۔

واللہ اعلم

فضیلۃ الباحث ابو دحیم محمد رضوان ناصر حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
تین رکعات وتر ایک سلام سے پڑھنا اس پر کوئی صحیح حدیث مبارکہ موجود ھے؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
تین رکعات وتر ایک سلام سے پڑھنا اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً عمر رضی اللّہ عنہ اور انس رضی اللّہ عنہ وغیرہ کا عمل ملتا ہے کہ وہ اس طرح وتر پڑھتے تھے۔
البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین وتر کو ایک سلام سے پڑھنے کی کیفیت مجھے نہیں معلوم۔
واللّٰہ أعلم۔

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ

١- عن أبي سلمة بن عبدالرحمن أنَّهُ سَأَلَ عائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها: كيفَ كانَتْ صَلاةُ رَسولِ اللَّهِ ﷺ في رَمَضانَ؟ قالَتْ: ما كانَ يَزِيدُ في رَمَضانَ ولا في غيرِهِ على إحْدى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أرْبَعَ رَكَعاتٍ، فلا تَسْأَلْ عن حُسْنِهِنَّ وطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أرْبَعًا، فلا تَسْأَلْ عن حُسْنِهِنَّ وطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا، فَقُلتُ: يا رَسولَ اللَّهِ تَنامُ قَبْلَ أنْ تُوتِرَ؟ قالَ: تَنامُ عَيْنِي ولا يَنامُ قَلْبِي.
الراوي: عائشة أم المؤمنين • البخاري، صحيح البخاري (٣٥٦٩) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٧٣٨)

اس سے میں استدلال کرتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ

سوال کیفیت کے متعلق ہے نہ کہ وتر کی تعداد کے متعلق۔
اس حدیث میں تو تین رکعات وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کی کیفیت کا ذکر تو موجود نہیں ہے۔
بلکہ اس حدیث میں تو تین وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔ واللّٰہ أعلم

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ

اس لئے لکھا کہ اس سے بھی استدلال کرتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ