سوال 7604
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ظہر کی شروع کی چار سنت پڑھنے کے بعد اور فرضوں سے نفل عبادت کر سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
فرضوں سے قبل چار ظہر کے چار نوافل ادا کرنے کے بعد مزید نوافل بھی ادا کرسکتے ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے نوافل ادا کرنے کی ترغیب دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاَةٌ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ
دو اذانوں (اذان و تکبیر) کے بیچ میں نماز ہے۔ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔پھر تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 627)
میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سے کوئی عبادت مجھے اتنی پسند نہیں جس قدر وہ عبادت پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے بھی مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں، تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے دیتا ہوں
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 6502]
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے لیے اٹھے) تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مانگو!“ میں نے عرض کیا: ”میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے سوا کچھ اور بھی؟“ میں نے عرض کیا: ”بس میں تو یہی مانگتا ہوں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تم اپنے اس معاملے میں سجدوں کی کثرت کے ذریعے میری مدد کرو۔“
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 1094)
اگر ہمارے فرائض میں کمی ہوئی تو یہ نوافل ہی تو قیامت کے دن ہمارے فرائض کی کمی کو دور کریں گے، اور اگر فرائض مکمل نہ ہوئے تو اس بندے کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے جس عمل کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ اس کی (فرض) نماز ہے۔ اگر اسے پورا ادا کیا ہوگا تو (باقی نمازیں) اس کے لیے نفل لکھ دی جائیں گی۔ اگر انہیں پورا نہیں ادا کیا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: ”دیکھو، کیا تمہیں میرے بندے کے کوئی نفل ملتے ہیں؟ اس نے اپنے فرائض میں جو کوتاہی کی تھی، وہ ان (نوافل) سے پوری کرو۔“ پھر دوسرے اعمال کا حساب بھی اسی انداز سے ہوگا۔“
(سنن ابن ماجه حدیث نمبر : 1426)
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : روزِ قیامت (حقوق اللہ میں سے) سب سے پہلے آدمی کی فرض نماز کا حساب ہوگا، اگر وہ مکمل ہوئی، تو باقی اعمال کا حساب ہوگا، اگر نماز میں کمی ہوئی، تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا اس کے نامہ اعمال میں کچھ نوافل ہیں، اگر نوافل ہوئے، تو نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کر دیا جائے گا، اگر نوافل نہ ہوئے، تو فرائض مکمل نہ ہوں گے اور اسے پکڑ کر جہنم رسید کر دیا جائے گا۔”
(السنن الكبرى للبيهقي حدیث نمبر : 4003)
پہلا طریقہ: چار نفل، چار فرض، دو نفل (النسائی 1795)
دوسرا طریقہ: دو نفل، چار فرض، دو نفل (بخاری 1180)
دونوں طریقے مسنون ہیں۔
باقی نفلی عبادت محترم نے بہترین جواب دیدیا، فجزاہ اللہ خیرا
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبد اللہ حفظہ اللہ




