سوال 7609
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز جنازہ میں سبحانک اللہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجل ثناءک کے الفاظ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا کسی حدیث سے ثابت ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر سوال یہ ہے کہ نماز جنازہ میں ثناء پڑھنا کیسا ہے؟ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔
ثناء پڑھنی چاہیے، کیونکہ ہر نماز میں ثناء پڑھی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض علماء کا خیال ہے کہ نماز جنازہ میں چونکہ ثناء کا ذکر نہیں ملتا، اس لیے یہ ثابت نہیں، لیکن عدمِ ذکر، عدمِ شیء کو مستلزم نہیں ہوتا۔
البتہ ثناء فرض کے درجے میں نہیں ہے، جبکہ سورۂ فاتحہ فرض کے درجے میں ہے، اور نماز کوئی بھی ہو، اس کا حکم یہی ہے۔
نمازِ جنازہ باقاعدہ نماز ہے، لہٰذا اس میں بھی ثناء ہونی چاہیے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہر نماز میں الگ الگ ثناء ثابت دکھائی جائے، تو پھر فجر کی سنتوں، سفر کی نماز، تراویح اور استخارہ وغیرہ کے لیے بھی الگ الگ دلیل دکھانی پڑے گی۔
اصل اصول یہ ہے:
«صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي»
یعنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو، اسی طرح نماز پڑھو۔
لہٰذا نماز جب بھی ہوگی، اس میں ثناء پڑھی جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جزاک اللّٰه خیرا
شیخ محترم
ثنا میں (وجل ثناءک) کے الفاظ پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز جنازہ میں جل ثناءک کے الفاظ من گھڑت ہیں فقہاء نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں حدیث کی کسی بھی صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




