سوال 7606
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخِ کرام! ایک وراثتی معاملے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک شخص کا انتقال ہوا اور ان کی وراثت میں 10 مرلے کا پلاٹ موجود ہے۔ مرحوم کے ایک بیٹے نے اپنی ایک بہن کے بیٹے (اپنے بھانجے) کو کاروبار کے لیے ایک دکان دی تھی۔ یہ دکان دراصل اس بیٹے نے خود پگڑی/کرائے پر لی ہوئی تھی اور اس میں کاروبار چلتا تھا۔ انہوں نے اپنے بھانجے سے کہا تھا کہ آپ دلجمعی سے کام کریں، جب آپ کا دل بھر جائے تو دکان چھوڑ دیں اور چابی مجھے واپس کر دیں۔
بعد میں بھانجے نے اپنے ماموں کی اجازت کے بغیر وہ دکان فروخت (سیل) کر دی۔ اس کے بعد ماموں بھی وفات پا گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بچوں اور قریبی لوگوں کے سامنے واضح طور پر کہا تھا کہ بھانجے نے دکان سے جو رقم حاصل کی ہے، وہ اس کی والدہ (میری بہن) کے وراثتی حصے میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔ اگر اس بہن کا وراثتی حصہ دکان کی رقم سے زیادہ ہو تو پہلے دکان کی رقم ایڈجسٹ کرکے باقی وراثتی رقم اسے دی جائے، اور اگر دکان کی رقم اس کے وراثتی حصے سے زیادہ ہو تو اضافی رقم اس سے واپس طلب نہیں کی جائے گی بلکہ اس کا وراثتی حصہ ختم/ایڈجسٹ سمجھا جائے گا۔
دوسری طرف اسی مرحوم بیٹے کی ایک اور بہن نے اپنی ضرورت کے لیے اپنے بھائی سے کچھ رقم بطور قرض لی تھی۔ اس وقت واضح طور پر طے ہوا تھا کہ والد کی وراثت تقسیم ہونے کے وقت یہ قرض کی رقم اس بہن کے وراثتی حصے میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی۔ اس معاملے کے گواہ بھی موجود ہیں، اگرچہ کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے۔
اب بھائی فوت ہو چکے ہیں اور ان کے ورثاء موجود ہیں، جبکہ دونوں بہنیں بھی حیات ہیں۔ مرحوم کا 10 مرلے کا پلاٹ فروخت کرکے وراثت تقسیم کی جا رہی ہے۔
سوال:
کیا مرحوم بیٹے کے ورثاء اپنی پھوپھی کے وراثتی حصے میں سے وہ قرض کی رقم ایڈجسٹ کر سکتے ہیں جو انہوں نے اپنے بھائی سے لی تھی؟
جس بہن کے بیٹے نے اپنے ماموں کی دکان فروخت کرکے رقم حاصل کی تھی، کیا اس رقم کو بھی اسی بہن کے وراثتی حصے میں ایڈجسٹ کیا جائے گا، یا یہ رقم اس کے وراثتی حصے کے علاوہ الگ سے وصول کی جائے گی؟
دونوں صورتوں میں شرعی اعتبار سے حقِ وراثت، قرض اور سابقہ ایڈجسٹمنٹ کا کیا حکم ہے؟
براہِ کرم دونوں صورتوں کا شرعی حکم واضح فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال سے تو واضح ہوتا ہے کہ زندگی میں یہ ساری باتیں طے ہو چکی تھیں کہ ایسے کرنا ہے اور ایسے کرنا ہے۔ اور جنہوں نے یہ رقم دینی تھی، وہ بھی خاموش رہے، انہیں معلوم تھا کہ آخر میں حل یہی نکلے گا۔
تو میرے خیال میں اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ جیسے جانے والوں نے کہا ہے اور جیسے ماننے والوں نے قبول کیا ہے، ویسے ہی معاملات کو ایڈجسٹ کیا جائے گا اور درست کیا جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




