سوال 7215

کیا ہر ماکول اللحم جانور کا پیشاپ پینا جائز ہے؟ یا صرف اونٹ کا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
مسئلہ یہ ہے کہ ماکول اللحم جانور کا پیشاب نجس نہیں بلکہ طاہر ہے۔ البتہ ہر طاہر چیز نہ کھائی جاتی ہے اور نہ پی جاتی ہے۔
ضرورت کے تحت، رحمتِ عالم ﷺ اللہ کی وحی کے مطابق رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بعض لوگوں کو اونٹنی کا دودھ اور پیشاب ملا کر پینے کا حکم دیا۔ آج بھی بعض طبی مسائل میں میڈیکل سائنس مخصوص چیزوں کے استعمال کی بات کرتی ہے۔
لہٰذا جہاں واقعی ضرورت ہو، وہاں اس چیز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان عام معمول کے طور پر اسے اپنا مشروب یا غذا بنا لے۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ہندو بھی ایسا کرتے ہیں، یا تمہاری کتابوں میں یہ لکھا ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن شریعت میں اصل اعتبار ضرورت، دلیل اور مشروعیت کا ہے، نہ کہ دوسروں کے عمل کا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض لوگ اونٹی کا پیشاب پینی والی بخاری کی حدیث #233 پر کہتے ہیں کہ یہ بھی تو ہندؤں کی طرح گائے کا پیشاب پینے کے مترادف ہے۔
ایسا ہرگز نہیں، حدیث میں صرف خاص بیماری کے علاج کے طور پر, بطور علاج دودھ کے ساتھ اونٹنی کا پیشاب ملا کر پینے کا ذکر ہے،ناکہ تبرک سمجھ کر۔ جبکہ ہندو گائے کے پیشاب کو متبرک سمجھتے ہیں۔
یہ بڑا فرق ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ