سوال 7639

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرما دیں بعض مسلمان ایک ہندوانہ رسم ہے گود بھرائی وہ اپنے گھر میں کرتے ہیں اور اس پہ جو ہے کچھ فروٹ اور کھانا وغیرہ بنا کے تقسیم کرتے ہیں یا بھیجتے ہیں گھروں میں تو کیا ایسے فروٹ اور ایسے کھانا کھانا جائز ہے یا اس کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں اللہ تعالی برکتیں عطا فرمائے۔ آمین

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، سوال میں یہ بات واضح ہے کہ گود بھرائی مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ رسم ہندوازم کی طرف سے ہمارے ہاں آئی ہے۔ لہٰذا اس رسم سے سو فیصد اجتناب کرنا چاہیے۔
اپنے عقیدے اور عمل کو علیٰ وجہ البصیرت اور فخر کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا:

«أَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ»

میں ماحی ہوں، اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کی ہر شکل کو مٹا دے گا۔
لہٰذا اسی مٹانے کا تقاضا ہے کہ ہمارے عقیدے اور عمل میں، خوشی ہو یا غمی، دوسروں کی تہذیب، تمدن، ثقافت، عقیدہ اور نظریہ دکھائی نہ دے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: جزاکم اللہ خیرا کثیرا شیخ محترم لیکن شیخ محترم اگر وہ گود بھرائی کا کھانا ہمارے گھر میں دے جائیں تو اسے کھانا ایسا کھانا جائز ہے یا نہیں اس کی بھی وضاحت فرما دیں جزاکم اللہ خیرا
جواب: دیکھیں، اگر ایسا کھانا پیش کیا جائے تو سر اٹھا کر، حسبِ احترام کہیں:
“جی، ہم اس طرح کے کھانے نہیں کھاتے، الحمدللہ، اور نہ ہم اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔”
اگر اس وضاحت کے ساتھ دو ٹوک بات کرنا ممکن نہ ہو اور شرما شرمی یا بے علمی میں ایک چیز لے لی جائے تو اسے انہی لوگوں میں سے کسی ایسے شخص کو دے دیں جو اسے کھاتا ہو۔ اسے واضح طور پر بتا دیں کہ ہم تو نہیں کھاتے، آپ چاہیں تو لے لیں۔
اور اگر ایسا شخص بھی نہ ہو تو کسی جانور کو کھلا دیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ