سوال

دیور، جیٹھ  ، بہنوئی، خالو وغیرہ قریبی رشتہ داروں سے  پردے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

الحمدلله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

  • سب سے پہلے یہ نکتہ یاد رکھیں ، کہ ایک ہے پر دے  کی حکمت ومصلحت اور فائده، اور دوسرا ہے اس کی علت یعنی وجہ و سبب۔ پردے کی حکمت تو یہ ہے کہ معا شرے  کو برا ئیو ںسے پاک  رکھا  جائے،  جبکہ پردے کی علت وسبب ہے کسی کا  غیر  محر م  ہونا۔ حکم کے ہونے نہ ہونے کا تعلق حکمت ومصلحت کی بجائے علت کے متعلق ہوتا ہے، لہذا جہاں جہاں پردے کی علت اور سبب پایا جائے گا، پردہ کرنا ضروری ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ فلاں جگہ پر بے حیائی یا برائی کا خطرہ نہیں، لہذا پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
  • اس با ت  کی وضا حت بھی ضروری  ہے کہ پردے  کا مدار دل  کے جذبا ت  پر نہیں  ہے  کہ اگر  کسی  کے متعلق  پا کیزہ جذبا ت  ہیں، تو اس سے پردہ نہیں ہے۔ دیکھئے  ازواجِ  مطہرا ت  یعنی امت  کی ما ئیں، صحا بہ کرام   رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دلوں میں ان کے متعلق پاکیزہ  جذبات  تھے، اس کے با و جو د کائنات کی پاکیزہ ترین عورتوں نے کائنات کے پاکیزہ ترین مردوں سے پرده كیا۔
  • اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید  میں بتا  دیا  ہے کہ  کون محر م ہے  جس سے پردہ نہیں، اور کو ن غیر محر م ہے جس  سےپرده ضروری ہے۔سورۃ النور کی آیت 31اور سورۃ الاحزاب کی آیت  55 میں باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، خاوند، سسر،خاوند کا بیٹا، نابالغ بچے کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ ان سے عورت کے لیے پردہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

یاد رہے! یہاں بھائیوں  بھا نجوں  اور بھتیجوں کے حکم میں وہ سب رشتہ دار  بھی آجا تے ہیں جو ایک عورت کے لیے حرام ہوں، خواہ وہ نسبی رشتہ دار ہوں یا رضاعی۔ اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ بھا نجوں اور بھتیجوں کا ذکر آجانے کے بعد ان کے ذکر کی حا جت نہیں ہے کیو نکہ بھا نجے ، بھتیجے  اور چچا ، ماموں سے پردہ نہ ہونے کی وجہ ایک ہی ہے۔ (دیکھیں: تفسیر آلوسی:11/251)

  • اس کے علاوہ جتنے افراد ہیں، ان سے  عورت کو پردہ کرنا ضروری ہے، جیسا کہ دیور، جیٹھ، بہنوئی، کزن، خالو، وغیرہ ۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا کہ خبردار! عورتوں کے پاس  تنہائی  میں  مت جا ؤ، انصا ر میں سے ایک شخص  نے عرض کیا یا رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم!  حمو (دیوراور  جیٹھ وغيره) کے متعلق  کیا ارشاد  ہے؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فر ما یا :” یہ تو موت  ہے۔ (صحیح  بخا ری : 5232)

واضح رہے کہ ’’حمو‘‘ سے مراد صرف خاوند کا بھائی ’دیور‘ ہی نہیں بلکہ مطلق طور پر خاوند کے رشتہ دار مراد ہیں، یعنی اس کے آباؤ و اجداد اور اولاد کے علاوہ دوسرے رشتہ دار ہیں مثلاً بھائی ، چچا، بھتیجے اور چچا کے بیٹے (کزن ) وغیرہ، یہ سب عورت کے لئے اجنبی ہیں، عورت کو ان سے پردہ کرنا چاہیے۔

  • پردہ والی آیت کے ضمن میں ارشادِ ربانی ہے:

{وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [النور: 31]

’خواتین اپنا  بنا ؤ سنگھا ر  نہ  دکھا ئیں  بجز اس کے خو د  ظا ہر ہو جا ئے ‘۔

بعض لوگ اس آیت سے پردہ میں سستی کا جواز کشیدکرتے ہیں،حالانکہ اس آیت کا  مفہوم  بالکل  صاف  ہے کہ  یہ پر دے کے متعلق  ایک امتناعى اوراستثنائى حكم ہے، یعنی عورتوں  کو خود  اپنی آرا ئش  وز یبا ئش  کی نمائش  نہیں کر نا  چا ہیے، البتہ  جو خود  بخو د  ظا ہر  ہو جائے ،مثلا: ہوا سے چادر اڑ جائے، یا پھر ویسے پردے کے اندر سے یعنی کپڑوں سے ہی زیب وزینت کااظہار ہو، جسے چھپانا ممکن نہ ہو، تو ايسی صورت میں کوئی مواخذہ نہیں  ہے۔ البتہ عورت کو  اپنی  طرف  سے اخفائے  زینت  کی کوشش  کرنی  چا ہیے، لیکن ظاہر ہے عورتیں  جن  کپڑو ں  میں اپنی  زینت  کی کو  چھپائیں گی  وہ  تو بہر حال  ظا ہر  ہی  ہو ں  گے،  ان کا قدوقا مت  ڈیل  ڈول  اور جسما نی  تنا سب  تو ان  میں محسو س  ہو گا، لہذا تمام  تحفظا ت  کے با و جو د  اگر  کو ئی  کمینہ نظر بد  سے با ز  نہیں  آتا  تو  وہ  اپنی  بد  نیتی  کی سزا خو د  بھگتے  گا، عورت اس سے بری ہے۔  لیکن اس سے یہ مراد لینا کسی طور درست نہیں کہ عورت جان بوجھ کرپردے میں تساہل کرے، یا پھر دیور، جیٹھ، بہنوئی، کزن وغیرہ رشتہ داروں کی موجودگی میں پردے میں سستی کرے، جیسا کہ بعض لوگوں کا رجحان ہے۔

  • بعض لوگ دیور، جیٹھ، کزن، بہنوئی ، خالو وغیرہ قریبی رشتہ داروں کے متعلق یہ خیال رکھتے ہیں کہ چونکہ یہ گھر میں ایک فرد کی طرح ہوتے ہیں، لہذا پردہ کرنا مشکل ہے، اس لیے ان سے بےپردگی میں گنجائش ہونی چاہیے۔ حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت میں احتیاط کی زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ یہاں فتنے میں مبتلا ہونے کا خطرہ و اندیشہ نسبتا زیادہ ہے، اس لئے کہ ایسے لوگوں کے لیے عورت کے پاس جانا اور اس سے خلوت کرنا قدرے آسانی کے ساتھ ممکن ہے، کیونکہ گھر میں ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی انکار بھی نہیں کر سکتا، اس کے مقابلے میں اجنبی آدمی کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہ گھر میں بلا اجازت نہیں آ سکتا۔

ہمارے مشاہدہ کے مطابق کچھ قریبی غیر محرم رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جو عورت کی چادر اور چار دیواری کا تحفظ نہیں کرتے ،بلکہ اس کو تار تار کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، اور یہ ان کی صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ، لہٰذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی عزت و ناموس کے تحفظ کے پیش نظر  ایسے رشتہ داروں  کے ساتھ بے تکلف ہونے سے اجتناب کرے اور اپنے پردے کو کسی صورت میں قربان نہ کرے۔  اور خاوند اور دیگر عزیز واقارب کو بھی بچی کے پردہ کی حمایت اور تحفظ کرنا چاہیے، اس کے لیے پردہ کو آسان سے آسان بنانےکی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ اس کو ہدفِ تنقید بنا کر ، طعنے دے دے کراس کے جذبہ دینداری کو کچلنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کی اصلاح فرمائے۔

  • بعض لوگ حضرتِ امِ حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے جاتے رہتے تھے، جبکہ اس بات کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے محرم کا رشتہ تھا، چنانچہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’کسی مسلمان کے ہاں ذرہ بھی شک نہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے محرم تھے‘۔[التمهيد:1/226]

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“اتَّفَقَ الْعُلَمَاء عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ مَحْرَمًا لَهُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”.[شرح صحيح مسلم:13/57]

علمائے کرام کا اس پراتفاق ہے کہ ام حرام رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محرمات میں سےتھیں ۔

مزید فرماتے ہیں:

’ام حرام ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہما کی بہن ہے اوردونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی یا نسبی خالہ ہیں، اس لہذا محرم ہونے  کی وجہ سے،ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت حلال ہے۔ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم خاص کر ان کے پاس تشریف لے جاتےتھے ، ورنہ آپ سوائے اپنی زوجات کے کسی اورعورت کے پاس نہیں جاتے تھے‘۔[شرح صحيح مسلم:10/16]

لہذا پہلی بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امِ حرام رضی اللہ عنہا کے لیے غیر محرم تھی ہی نہیں، اور اگر ہوں بھی تو یہ آپ کا خاصہ شمار ہوگا، کیونکہ آپ کے علاوہ دیگر کسی صحابی سے تو دور کی بات، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے   (اس کے علاوہ) یہ طرزِ عمل ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  سعید مجتبی سعیدی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الرؤف بن  عبد الحنان حفظہ اللہ