سوال 7204

کیا اس روایت پر عمل کیا جاسکتا ہے اور اس کی تشہیر کی جاسکتی ہے؟

فقد جاء عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أنه إذا دخل بيته قرأ آية الكرسي في زوايا بيته الأربع. قال القرطبي: معناه كأنه يلتمس بذلك أن تكون له حارسا مِن جوانبه الأربع، وأن تَنْفِي عنه الشيطان مِن زَوايا بَيته.
وهذا الذي ذَكَره عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه رواه ابن أبي شيبة من طريق عُبيد بن عمير قال: كان عبد الرحمن بن عوف إذا دخل مَنْزِله قرأ في زواياه آية الكرسي

جواب

یہ اثر مصنف ابن أبي شيبة :(32021) ،مسند أبی یعلی:(7207) ،فضائل القرآن للمستغفري:(736) ،إتحاف الخيرة المهرة للبوصيرى :(6049) ،المطالب العالية لابن حجر :(3554) وغيره میں موجود ہے مگر سند منقطع و ضعیف ہے عبد الله بن عبيد بن عمير کا عبد الرحمن بن عوف سے سماع ثابت نہیں ہے۔
جیسا کہ حافظ ہیثمی نے کہا:
ﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﻳﻌﻠﻰ، ﻭﺭﺟﺎﻟﻪ ﺛﻘﺎﺕ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻟﻢ ﻳﺴﻤﻊ ﻣﻦ اﺑﻦ ﻋﻮﻑ۔
مجمع الزوائد :10/ 128
آیۃ الکرسی کی فضیلت میں جو صحیح احادیث ہیں وہی کافی جیسا کہ حدیث أبی هريرة رضی الله عنہ جو صحیح البخاری :(2311) وغیرہ میں ہے کہ جب بستر پر آئیں تو آیۃ الکرسی پڑھیں اس سے ایک محافظ الله تعالى کی طرف سے مقرر ہو گا اور صبح تک شیطان قریب نہیں آئے گا
اسی طرح صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی الله عنہ کے مطابق گھر میں داخل ہوتے وقت كلمہ بسم الله پڑھیں تو اس گھر میں شیطان ٹہرتا نہیں ہے بلکہ وہاں سے نکل جاتا ہے۔
ایسے ہی گھر میں روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کریں ،صبح وشام اور سونے کے وقت کے اذکار کریں،کھانے پینے کے وقت بسم الله پڑھیں اور قرآن وسنت کی روشنی میں زندگی گزاریں تو شیاطین وجنات کبھی بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے إن شاءالله الرحمن

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ