سوال 7403

اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ وَحَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ

شیخ یہ روایت ثابت ہے؟

جواب

ان الفاظ سے یہ روایت غیر محفوظ ہے
صحیح اور محفوظ حدیث جو سعید بن أبی ھند عن ابن عباس رضی الله عنہ کے طریق سے ہے وہ ان الفاظ سے ہے
ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻧﻌﻤﺘﺎﻥ ﻣﻐﺒﻮﻥ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ: اﻟﺼﺤﺔ ﻭاﻟﻔﺮاﻍ
صحيح البخارى :(6412) ،سنن ابن ماجہ:(4170)،سنن ترمذی:(2304)،مسند أحمد بن حنبل :(2340 ، 3207)،السنن الكبرى للنسائى :(11800)
مستدرک حاکم :(7846) وغیرہ والی روایت ان الفاظ
اﻏﺘﻨﻢ ﺧﻤﺴﺎ ﻗﺒﻞ ﺧﻤﺲ کے الفاظ سے غیر محفوظ ہے یہی وجہ ہے اس طریق سے اسے امام بخاری اپنی الصحیح میں نہیں لاے بلکہ جس متن سے محفوظ ہے اور جسے ثقات حفاظ نے بیان کیا ہے اسے ہی اپنی الصحیح میں نقل کیا ہے۔
اور امام بیھقی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
ﻭﻛﺬﻟﻚ ﺭﻭاﻩ ﻏﻴﺮﻩ , ﻋﻦ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻭﻫﻮ ﻏﻠﻂ , ﻭﺇﻧﻤﺎ اﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺑﻬﺬا اﻹﺳﻨﺎﺩ ﻣﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے وہی روایت بیان کی ہے جو صحیح البخاری میں موجود ہے۔
پھر امام بیھقی کہتے ہیں:
ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻤﺘﻦ اﻷﻭﻝ ﻓﻌﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ ﺇﻧﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺮﻗﺎﻕ ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺑﺮﻗﺎﻥ , ﻋﻦ ﺯﻳﺎﺩ ﺑﻦ اﻟﺠﺮاﺡ , ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻣﻴﻤﻮﻥ اﻷﻭﺩﻱ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﺮﺟﻞ ﻭﻫﻮ ﻳﻌﻈﻪ: اﻏﺘﻨﻢ ﺧﻤﺴﺎ ﻗﺒﻞ ﺧﻤﺲ ﺷﺒﺎﺑﻚ ﻗﺒﻞ ﻫﺮﻣﻚ ﻭﺻﺤﺘﻚ ﻗﺒﻞ ﺳﻘﻤﻚ ﻭﻏﻨﺎﻙ ﻗﺒﻞ ﻓﻘﺮﻙ ﻭﻓﺮاﻏﻚ ﻗﺒﻞ ﺷﻐﻠﻚ ﻭﺣﻴﺎﺗﻚ ﻗﺒﻞ ﻣﻮﺗﻚ
شعب الإيمان للبيهقى :12/ 477
یعنی امام ابن المبارک نے مرسلا نقل کیا اور موصولا نقل نہیں کیا یہ کسی راوی کی غلطی ہے اور ابن المبارک نے جو روایت بیان کی ہے وہ وہی ہے جو صحیح البخاری وغیرہ میں ہے سند و متن کے اعتبار سے بلکہ امام ابن المبارک سے کتاب الزهد والرقائق :(1) میں پہلے یہی صحیح اور محفوظ حدیث نقل کی گئ اور اس کے بعد مرسلا نقل کی گئ ہے۔
تو جو حدیث جن الفاظ سے صحیح اور محفوظ ہے وہ صحیح البخاری وغیرہ میں موجود ہے اسے ہی بیان کیا جائے البتہ دوسری روایت اگرچہ اصولا خطاء پر مبنی ہے مگر اس کا متن درست ہے ۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ