سوال 7599
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا امتی کی جانب سے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم پر پڑھا گیا درود آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس کی کیا صورت ہے؟
کیا نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم جواب بھی دیتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں“
(سنن ابي داود حدیث نمبر : 2041)
روح لوٹانے کی کئی ایک تفاسیر کی گئی ہیں مگر نتیجہ یہی ہے کہ یہ برزخی زندگی کا معاملہ ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے، جس کی حقیقت کا ہمیں علم نہیں، لیکن اس یہ دعویٰ کرنا غلط ہے کہ یہ زندگی دنیا کی ہی کی طرح ہے، یہ بے بنیاد دعویٰ ہے جو قرآن وحدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔ اگر آپ دنیا کی طرح ہی زندہ ہوتے تو پھر رد روح کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، باقی رہا یہ اشکال کہ کروڑوں مسلمانوں میں سے بے شمار مسلمان ہر وقت ہی آپ پر درود وسلام بھیجتے رہتے ہیں۔ تو وقفے وقفے سے یہ رد روح کس طرح ممکن ہے؟ تو یہ اشکال اللہ کی قدرت پر عدم یقین کا نتیجہ ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر میری روح لوٹا دیتا ہے تو ہمیں صرف اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
نیز یہ حسن درجے کی حدیث ہے
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے اس روایت کو جید قرار دیا ہے
(مجموع الفتاوى : 116/27، اقتضاء الصراط المستقيم : 183/2)
شیخ الاسلام امام ابن قیم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
(جلاء الأفهام : 108)
امام ابن حجر نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(الفتوحات الربانية : 31/5)
امام نووي نے اس کی سند میں صحیح قرار دیا ہے۔
(خلاصة الأحكام للنووي : 440/1)
امام ابن ملقن نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے
(تحفة المحتاج : 190/2)
امام سخاوی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(القول البديع : 229)
امام عینی حنفی نے اسکی سند کو صحیح قرار دیا ہے
(العلم الهيب : 82)
امام سیوطی نے اسکی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(الجامع الصغير : 7968)
علامہ البانی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(التوسل للألباني : 60)
سابق سعودی مفتی اعظم ابن باز نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(مجموع فتاوى ابن باز : 101/16)
شعيب الأرنؤوط نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے
(تخريج زاد المعاد : 37/3)
شیخ محمد الأمين الشنقيطي نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے
(رحلة الحج : 322)
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




