سوال 7597
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کے علاوہ، مثلاً لے پالک بچے وغیرہ کو اپنا مال بطورِ ہبہ دے سکتا ہے؟ کیا اس کی کوئی شرعی حد مقرر ہے، یا وہ چاہے تو اپنا سارا مال بھی دے سکتا ہے؟
بالخصوص اگر اس کی اپنی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے بہن بھائی جو اس کے وارث بنتے ہیں وہ مالی طور پر مضبوط ہوں، تو کیا ایسی صورت میں وہ اپنا تمام مال کسی غیر وارث کو دے سکتا ہے؟
براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق عمومی قاعدہ تو یہی ہے کہ انسان اپنی جائیداد کا ایک تہائی (ون تھرڈ) کسی جائز کام کے لیے یا کسی صحیح شخصیت کو دے سکتا ہے، یعنی کل جائیداد کے ایک تہائی کی وصیت کر سکتا ہے۔
زندگی میں جو کچھ دینا ہو، وہ بھی اسی حساب سے دے تو اچھا ہے، تاکہ ورثاء محروم نہ ہوں۔
البتہ اگر وہ اپنا سب کچھ دینا چاہتا ہے تو پھر ورثاء کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ ورنہ آخری صورت یہی ہوگی۔ اپنے ورثاء کو کسی غلط وصیت کے ذریعے محروم نہیں کرنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




