سوال 7596
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر شوہر اپنی بیوی کو اس وقت آواز دے جب وہ نماز پڑھ رہی ہو، تو کیا بیوی نماز چھوڑ کر شوہر کی بات سنے گی، یا نماز مکمل کرے گی؟
براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر فرض نماز ادا کر رہی ہے پھر وہ نماز پوری کر لے۔ البتہ کچھ ہلکا کر دے، تخفیف کر دے، لیکن نماز مکمل کرکے پھر شوہر کی بات پر لبیک کہے۔
اور اگر نفلی عبادت ہے تو پھر اسے شوہر کی اطاعت پر لبیک کہنا چاہیے۔
البتہ قرائن سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ بات کیا ہو سکتی ہے اور کتنی اہم ہے۔ اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ عبادت کو ایسا نہ کر دیا جائے کہ مذاق بن کے رہ جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اچھا، یہاں پر شیخ عبدالوکِیل ناصر صاحب حفظہ اللہ کی بات میں بس اضافہ ہی کروں گا اور ایک دلیل کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا۔
اگر عورت فرض نماز میں ہے اور شوہر اسے آواز دیتا ہے تو اسے نماز نہیں توڑنی چاہیے۔ نماز کے اندر شوہر کو جواب نہیں دے گی، بلکہ نماز مکمل کرے گی، اس لیے کہ نماز ایک فریضہ ہے اور محض شوہر کے بلانے کی وجہ سے اسے توڑنا درست نہیں ہے۔
اگر بیوی نفلی نماز پڑھ رہی ہو تو اس حوالے سے بعض علماء نے حدیثِ جریج سے استنباط کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جریج کا واقعہ بیان فرمایا کہ اس کی والدہ اسے نماز پڑھتے ہوئے بلاتی رہیں، مگر اس نے نماز جاری رکھی۔ تو اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا گیا کہ نفل نماز کے مقابلے میں کسی واجب حق کو مقدم کیا جائے گا، جس کی ادائیگی فوری مطلوب ہو۔
والدین کی پکار کا معاملہ تو حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء اور علماء نے نفل نماز اور فوری واجب حق کے درمیان فرق کیا ہے۔ اس پر اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بہرحال اگر اس اختلاف کو مانا جائے تو اگر شوہر نفل نماز پڑھنے والی بیوی کو کسی ضروری کام سے آواز دے تو وہ نماز توڑ کر شوہر کی بات سن سکتی ہے۔
لیکن محض عادتاً یا کسی معمولی بات کے حوالے سے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اس حوالے سے دیکھے، اپنے معاملات کو سمجھے اور خود نوٹ کرے۔
البتہ اس میں صورتحال کی تفصیل کو دیکھا جائے گا۔ مثال کے طور پر، اللہ نہ کرے، اگر شوہر کی آواز کی وجہ کوئی ہنگامی صورتِ حال ہو؛ اللہ نہ کرے اولاد کا کوئی مسئلہ ہو، کوئی جان بچانے کا مسئلہ ہو، کسی کی زندگی خطرے میں ہو، یا آگ لگ جائے، تو ایسی کیفیت میں نفل نماز تو بہت دور کی بات ہے، فرض نماز کو بھی توڑا جا سکتا ہے، اس لیے کہ شریعت میں جان کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ




