سوال 7263

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم نو محرم کو چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں فیکٹری میں یا باہر اور پھر اکثر دیکھا ہے، باہر ہر گاڑی کو روک روک کر پانی پلاتے ہیں۔۔۔ نو اور دس کو اللہ کی راہ میں دیتے ہیں چاول کھیر وغیرہ جوس وغیرہ۔
اس کے متعلق رہنمائی فر مادیں۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اسکا لینا کھانا کیسا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر یہ غیر اللہ کے نام کا ہے تو حرام ہے و ما اہل بہ غیر اللہ کے تحت اور اگر ایصال ثواب کے لیے بھی لگا ہوا ہے تو پھر یہ بدعت ہے کیونکہ مہینہ خاص ہے تاریخ خاص ہے انداز خاص ہے اس کے پیچھے عقیدہ بھی خاص ہے لہٰذا یہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے ایسا کھانا نہیں کھانا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
مالی عبادت صرف رب العالمین کا حق ہے۔ اناج ، کھانا سال بھر میں جب چاہیں غربا ، مساکین وغیرہ میں تقسیم کریں۔ البتہ خاص مہنیوں اور دنوں میں خاص طے شدہ نظریہ وعقیدہ کی بنیاد پر کوئی چیز تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر اسے خالص غیر الله کے خوف اور ان کے تقرب کے حصول کے لئے سر انجام دیا جائے تو یہ شرک فی العبادت، شرک فی المال ہے۔
محرم الحرام میں جس نظریہ وعقیدہ کے سبب سبیلیں لگائی جاتی اور نیاز حسین دی جاتی ہے یہ سب سیدنا حسین ابن علی رضی الله عنہ اور اہل بیت کی تعلیم وترغیب نہیں ہے نہ ہی یہ نظریہ وعقیدہ اہل بیت،حسین ابن علی کا اپنا تھا۔
وہ تمام ہستیاں ان باطل نظریات وعقائد سے بری الذمہ ہیں جو ان سے منسوب کر رکھے ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ نے فرمایا:
خالفوا سنن المشركين
تم مشرکین کے طور طریقے ( اور غلط عادات ونظریات کی) مخالفت کرو ۔
مصنف ابن أبي شيبة: (37375) صحيح
لفظ سنن میں وہ تمام باطل عقائد ونظریات و افکارات آ جاتے ہیں جو اہل شرک وبدعات میں موجود ہیں ۔
رب العالمین ہمیں عقیدہ توحید وہ دیں جو صحابہ کرام،اہل بیت کو دیا تھا
رضى الله عنهم اجمعین

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ