سوال 7576

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: حدیثِ انسؓ میں «حَلْقِ الْعَانَةِ» یعنی زیرِ ناف/عانہ کے بال صاف کرنے کا ذکر ہے۔
سوال یہ ہے کہ عانہ کی شرعی حد کہاں تک ہے؟ کیا صرف شرم گاہ کے اردگرد کے بال عانہ میں شامل ہیں یا ناف کے نیچے پیٹ اور رانوں کے قریب اگنے والے بال بھی اس میں شامل ہیں؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور ائمہ و اہلِ علم کی معتبر عبارات کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس پر پہلے بھی تفصیلاً بات ہو چکی ہے۔ محترم شیخ عبدالرزاق صاحب نے بھی اس پر گفتگو کی تھی، اور محترم رفیق طاہر صاحب نے بھی اس بارے میں لکھا ہے۔ مشائخ کی تحریروں اور فرمودات کا خلاصہ یہ ہے کہ عانہ کا یہ حصہ ایک مثلث، یعنی تکون کی شکل اختیار کرتا ہے۔
یعنی عانہ کے معاملے میں بہت زیادہ دائیں، بائیں، آگے، پیچھے کا معاملہ نہیں ہے۔ جہاں جہاں بال ہیں، بس اسی پر فوکس کریں تو اگر آپ تصور کریں گے تو ایک مثلث ہی بن جائے گی۔ لہٰذا فرنٹ کا حصہ ہو یا بیک کا حصہ، اتنا کافی ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
بس یہ بات ہے کہ شریعت نے اس کی کوئی ناپ تول کے ساتھ حد بندی نہیں کی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ