سوال 7683

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتیان کرام سے ایک سوال ہے کہ ہمارے بڑے ہی معتبر اور محترم جناب مفتی عبدالرحمن عابد حفظہ اللہ نے فرمایا کہ اجتماعی دعا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے کہیں بھی ثابت نہیں ہے اور دوسری بات کہ دو موقعوں کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے انفرادی طور پر بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت نہیں یعنی اگر کوئی شخص دعا کرنا چاہتا ہے انفرادی طور پر بھی تو وہ صرف اور صرف ہاتھ اٹھائے بغیر ہی دعا کر سکتا ہے اگر ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کا یہ طریقہ درست نہیں ہے برائے کرم اس پر تھوڑی سی رہنمائی فرما دیں۔

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب ہمیشہ کی طرح جذبات میں آ کر کچھ باتیں فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ کو برکت دے اور سلامت رکھے۔
بات یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی دعا کے متعلق اصول یہ ہے کہ اہلِ حدیث نے جس چیز کا انکار کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد اذکار چھوڑ کر مستقل مزاجی اور دوام کے ساتھ الگ دعائیں کی جائیں، خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی۔ یہ طریقہ بلا دلیل ہے۔
البتہ اذکار مکمل کرنے کے بعد کسی نے دعا کی درخواست کر دی، لوگوں نے آمین کہہ دی، یا امام صاحب نے حالات کو دیکھتے ہوئے خود ہی دعا کروا دی، یا ہر شخص نے اپنی اپنی دعا کر لی اور دو، چار، چھ یا آٹھ افراد اپنی اپنی دعا کرکے چلے گئے، تو اس کی گنجائش ہے۔ اس میں دوام اور ہمیشگی نہیں ہونی چاہیے۔
لہٰذا اذکار کو ترجیح دی جائے، اس کے بعد کبھی کبھار انفرادی دعا بھی کی جا سکتی ہے اور اجتماعی دعا بھی۔ یہی صحیح ترین بات ہے، ان شاء اللہ
اب رہ گئی ہاتھ اٹھانے کی بات، تو یہ ایک الگ بحث ہے۔ ہاتھ اٹھانا دعا کے آداب میں سے ہے، لیکن لازم نہیں۔ ہر چیز پر اصرار کرنا کہ یہ دکھا دیں، پھر وہ دکھا دیں، درست انداز نہیں۔ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرنے والے دکھا دیں کہ کتنے صحابہ بیٹھ کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس طرح ہر چیز پر اصرار نہیں کیا جاتا۔ جذبات میں کچھ کہہ دینا الگ بات ہے۔
اصل بات واضح ہے کہ نمازوں کے بعد انفرادی ہو یا اجتماعی، دعا میں دوام اور ہمیشگی نہیں ہونی چاہیے۔ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں تو بھی درست ہے اور نہ اٹھائیں تو بھی درست ہے۔ یہی مسئلہ ہے۔
باقی رہا عیدین کا معاملہ، تو وہاں دعا سے مراد خطبہ ہے۔ دعوت سے مراد بھی خطبہ ہے، دعا کے مخصوص الفاظ نہیں۔ بخاری میں

«يَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ»

کے الفاظ آئے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: استادِ محترم! کیا دعا کے دوران ہاتھ اٹھانے کے جواز کی دلیل میں یہ حدیث پیش کی جا سکتی ہے؟

«إِنَّ اللَّهَ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ»

براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں، اس حدیث کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، اور اس کے علاوہ بھی دلائل مل جاتے ہیں۔ ہاتھ اٹھانا دعا کے آداب میں سے ہے، جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ لازم نہیں ہے، بلکہ آداب میں سے ہے۔ لہٰذا صرف اسی بنیاد پر ہاتھ اٹھانے کا انکار نہیں ہونا چاہیے۔
اصل بات وہی ہے جو میں نے ذکر کی کہ دعا کے معاملے میں دلائل کی روشنی میں راجح قول یہی ہے کہ انفرادی ہو یا اجتماعی، دعا میں ہمیشگی اور دوام نہ ہو۔ بس اس بات کا خیال رکھا جائے۔
باقی عیدین کے موقع پر دعا موجود ہے، اس کا انکار کرنا بھی درست نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
استادِ محترم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ایسے اوقات اور مواقع بیان فرمائے ہیں جن میں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے، مثلاً اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت اور نماز کے بعد دعا کرنا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان مواقع پر، جب بھی یہ وقت آئے، ہر روز، ہر نماز کے بعد یا ہر مرتبہ دعا کرتا ہے تو کیا اس طرح پابندی کے ساتھ دعا کرنا شرعاً درست ہے؟ یا ان مواقع پر ہمیشہ دعا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے؟
براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی ہاں، احادیث میں ان اوقات اور مواقع کا ذکر موجود ہے جن میں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ، تابعین، ائمہ کرام اور محدثین نے ان احادیث کا یہی مطلب سمجھا تھا کہ سب لوگ جمع ہو کر بیٹھ جائیں اور ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔
ہر شخص ان مواقع سے اپنے طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن اس انداز سے اس عمل کو اختیار نہ کرے کہ لوگ اس کے پیچھے پڑ جائیں اور پوچھتے پھریں کہ آپ نے یہ کیا شروع کر دیا ہے۔
زیادہ تر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اذکار اور دعائیں زبانی پڑھی جاتی تھیں اور دوسروں کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ کوئی شخص اس موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص اس دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کر لیتا ہے تو اس پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

دعا میں ہاتھ اٹھانا بہتر و افضل اور ثابت ہے
لہذا انفرادی طور پر جب چاہیں آپ ہاتھ اٹھا کر دعا کر سکتے ہیں اسی طرح قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے پر بھی دلیل موجود ہے
دلائل ملاحظہ فرمائیں:

(1) ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﺰﻳﺪ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ اﻟﺘﻴﻤﻲ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ، ﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻟﻴﺴﺘﺤﻲ ﺃﻥ ﻳﺒﺴﻂ اﻟﻌﺒﺪ ﺇﻟﻴﻪ ﻳﺪﻳﻪ ﻳﺴﺄﻟﻪ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﺧﻴﺮا، ﻓﻴﺮﺩﻫﻤﺎ ﺧﺎﺋﺒﺘﻴﻦ
مسند أحمد بن حنبل :(23714) صحيح
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ( هو الدباغ)، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﻋﺜﻤﺎﻥ عن ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﺣﻴﻲ ﻛﺮﻳﻢ ﻳﺴﺘﺤﻴﻲ ﻣﻦ ﻋﺒﺪﻩ ﺃﻥ ﻳﺮﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﺇﻟﻴﻪ ﻳﺪﻋﻮ، ﺛﻢ ﻳﺮﺩﻫﻤﺎ ﺻﻔﺮا، ﺃﻭ ﺧﺎﺋﺒﺘﻴﻦ
الزهد لوكيع:(504) سنده صحيح

یہ روایت مرفوع و موقوف دونوں طرح بیان ہوئی ہے لیکن علی الراجح اس کا موقوف ہونا ہی ہے تفصیل ہم نے مشکوۃ المصابیح کی تحقیق میں بیان کر رکھی ہے اور وہاں اس کے دیگر صحیح طرق بھی بیان کر دیے ہیں رب العالمین مجھے اس مبارک عمل کو مکمل کرنے کی توفیق دیں ۔
مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کاذکر ہے
(2)سيدنا ابراهيم عليه السلام کا عمل مبارک

ﻓﺎﻧﻄﻠﻖ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺣﺘﻰ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻋﻨﺪ اﻟﺜﻨﻴﺔ ﺣﻴﺚ ﻻ ﻳﺮﻭﻧﻪ، اﺳﺘﻘﺒﻞ ﺑﻮﺟﻬﻪ اﻟﺒﻴﺖ، ﺛﻢ ﺩﻋﺎ ﺑﻬﺆﻻء اﻟﻜﻠﻤﺎﺕ، ﻭﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﻓﻘﺎﻝ: ﺭﺏ {ﺇﻧﻲ ﺃﺳﻜﻨﺖ ﻣﻦ ﺫﺭﻳﺘﻲ ﺑﻮاﺩ ﻏﻴﺮ ﺫﻱ ﺯﺭﻉ ﻋﻨﺪ ﺑﻴﺘﻚ اﻟﻤﺤﺮﻡ} [ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ: 37] ﺣﺘﻰ ﺑﻠﻎ {ﻳﺸﻜﺮﻭﻥ}
[ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ: 37]
صحیح البخاری :(3364)

(3)ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ: ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﺮﻣﻲ اﻟﺠﻤﺮﺓ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺑﺴﺒﻊ ﺣﺼﻴﺎﺕ، ﻳﻜﺒﺮ ﻋﻠﻰ ﺇﺛﺮ ﻛﻞ ﺣﺼﺎﺓ، ﺛﻢ ﻳﺘﻘﺪﻡ ﺣﺘﻰ ﻳﺴﻬﻞ، ﻓﻴﻘﻮﻡ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ اﻟﻘﺒﻠﺔ، ﻓﻴﻘﻮﻡ ﻃﻮﻳﻼ، ﻭﻳﺪﻋﻮ ﻭيرفع ﻳﺪﻳﻪ، ﺛﻢ ﻳﺮﻣﻲ اﻟﻮﺳﻄﻰ، ﺛﻢ ﻳﺄﺧﺬ ﺫاﺕ اﻟﺸﻤﺎﻝ ﻓﻴﺴﺘﻬﻞ، ﻭﻳﻘﻮﻡ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ اﻟﻘﺒﻠﺔ، ﻓﻴﻘﻮﻡ ﻃﻮﻳﻼ، ﻭﻳﺪﻋﻮ ويرفع ﻳﺪﻳﻪ، ﻭﻳﻘﻮﻡ ﻃﻮﻳﻼ، ﺛﻢ ﻳﺮﻣﻲ ﺟﻤﺮﺓ ﺫاﺕ اﻟﻌﻘﺒﺔ ﻣﻦ ﺑﻄﻦ اﻟﻮاﺩﻱ، ﻭﻻ ﻳﻘﻒ ﻋﻨﺪﻫﺎ، ﺛﻢ ﻳﻨﺼﺮﻑ، ﻓﻴﻘﻮﻝ ﻫﻜﺬا ﺭﺃﻳﺖ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻔﻌﻠﻪ
صحیح البخاری :(1751،1752 ،1753)

(4)سيدنا ابو موسى اشعرى کہتے ہیں :

ﻓﺪﺧﻠﺖ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﺑﻴﺘﻪ ﻋﻠﻰ ﺳﺮﻳﺮ ﻣﺮﻣﻞ ﻭﻋﻠﻴﻪ ﻓﺮاﺵ، ﻗﺪ ﺃﺛﺮ ﺭﻣﺎﻝ اﻟﺴﺮﻳﺮ ﺑﻈﻬﺮﻩ ﻭﺟﻨﺒﻴﻪ، ﻓﺄﺧﺒﺮﺗﻪ ﺑﺨﺒﺮﻧﺎ ﻭﺧﺒﺮ ﺃﺑﻲ ﻋﺎﻣﺮ، ﻭﻗﺎﻝ: ﻗﻞ ﻟﻪ اﺳﺘﻐﻔﺮ ﻟﻲ، ﻓﺪﻋﺎ ﺑﻤﺎء ﻓﺘﻮﺿﺄ، ﺛﻢ ﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﻓﻘﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﻏﻔﺮ ﻟﻌﺒﻴﺪ ﺃﺑﻲ ﻋﺎﻣﺮ ﻭﺭﺃﻳﺖ ﺑﻴﺎﺽ ﺇﺑﻄﻴﻪ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﺟﻌﻠﻪ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻓﻮﻕ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻦ ﺧﻠﻘﻚ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ۔۔۔۔۔
صحیح البخاری :(4323)
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﻮﺳﻰ ، ﻗﺎﻝ: ﺩﻋﺎ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻤﺎء ﻓﺘﻮﺿﺄ ﺑﻪ، ﺛﻢ ﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﻓﻘﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﻏﻔﺮ ﻟﻌﺒﻴﺪ ﺃﺑﻲ ﻋﺎﻣﺮ ﻭﺭﺃﻳﺖ ﺑﻴﺎﺽ ﺇﺑﻄﻴﻪ، ﻓﻘﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﺟﻌﻠﻪ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻓﻮﻕ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻦ ﺧﻠﻘﻚ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ
ایضا:(6383) وصحیح مسلم:(2498)

صحیح البخاری میں امام بخاری نے ﺑﺎﺏ ﺭﻓﻊ اﻷﻳﺪﻱ ﻓﻲ اﻟﺪﻋﺎء کے تحت دو رواتیں نقل کیں

(5) ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﻌﺎﺹ، ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﺗﻼ ﻗﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻓﻲ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ: {ﺭﺏ ﺇﻧﻬﻦ ﺃﺿﻠﻠﻦ ﻛﺜﻴﺮا ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﻓﻤﻦ ﺗﺒﻌﻨﻲ ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻨﻲ} [ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ: 36]
اﻵﻳﺔ، ﻭﻗﺎﻝ ﻋﻴﺴﻰ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ: {ﺇﻥ ﺗﻌﺬﺑﻬﻢ ﻓﺈﻧﻬﻢ ﻋﺒﺎﺩﻙ ﻭﺇﻥ ﺗﻐﻔﺮ ﻟﻬﻢ ﻓﺈﻧﻚ ﺃﻧﺖ اﻟﻌﺰﻳﺰ اﻟﺤﻜﻴﻢ} [ اﻟﻤﺎﺋﺪﺓ: 118]
، ﻓﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﻭﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺃﻣﺘﻲ ﺃﻣﺘﻲ، ﻭﺑﻜﻰ، ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ: ﻳﺎ ﺟﺒﺮﻳﻞ اﺫﻫﺐ ﺇﻟﻰ ﻣﺤﻤﺪ، ﻭﺭﺑﻚ ﺃﻋﻠﻢ، ﻓﺴﻠﻪ ﻣﺎ ﻳﺒﻜﻴﻚ؟ ﻓﺄﺗﺎﻩ ﺟﺒﺮﻳﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﺴﻼﻡ، ﻓﺴﺄﻟﻪ ﻓﺄﺧﺒﺮﻩ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻤﺎ ﻗﺎﻝ، ﻭﻫﻮ ﺃﻋﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻠﻪ: ” ﻳﺎ ﺟﺒﺮﻳﻞ، اﺫﻫﺐ ﺇﻟﻰ ﻣﺤﻤﺪ، ﻓﻘﻞ: ﺇﻧﺎ ﺳﻨﺮﺿﻴﻚ ﻓﻲ ﺃﻣﺘﻚ، ﻭﻻ ﻧﺴﻮءﻙ
صحیح مسلم :(202)
(6)ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻛﺎﻥ ﺇﺫا ﺭﻣﻰ اﻟﺠﻤﺮﺓ اﻷﻭﻟﻰ اﻟﺘﻲ ﺗﻠﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﺭﻣﺎﻫﺎ ﺑﺴﺒﻊ ﺣﺼﻴﺎﺕ، ﻳﻜﺒﺮ ﻣﻊ ﻛﻞ ﺣﺼﺎﺓ، ﺛﻢ ﻳﻘﻮﻡ ﺃﻣﺎﻣﻬﺎ، ﻓﻴﺴﺘﻘﺒﻞ اﻟﺒﻴﺖ ﺭاﻓﻌﺎ ﻳﺪﻳﻪ ﻳﺪﻋﻮ ، ﻭﻛﺎﻥ ﻳﻄﻴﻞ اﻟﻮﻗﻮﻑ، ﺛﻢ ﻳﺮﻣﻲ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﺑﺴﺒﻊ ﺣﺼﻴﺎﺕ ، ﻳﻜﺒﺮ ﻣﻊ ﻛﻞ ﺣﺼﺎﺓ، ﺛﻢ ﻳﻨﺼﺮﻑ ﺫاﺕ اﻟﻴﺴﺎﺭ ﺇﻟﻰ ﺑﻄﻦ اﻟﻮاﺩﻱ، ﻓﻴﻘﻒ، ﻭﻳﺴﺘﻘﺒﻞ اﻟﻘﺒﻠﺔ، ﺭاﻓﻌﺎ ﻳﺪﻳﻪ ﻳﺪﻋﻮ، ﺛﻢ ﻳﻤﻀﻲ ﺣﺘﻰ ﻳﺄﺗﻲ اﻟﺠﻤﺮﺓ ، اﻟﺘﻲ ﻋﻨﺪ اﻟﻌﻘﺒﺔ، ﻓﻴﺮﻣﻴﻬﺎ ﺑﺴﺒﻊ ﺣﺼﻴﺎﺕ، ﻳﻜﺒﺮ ﻋﻨﺪ ﻛﻞ ﺣﺼﺎﺓ، ﺛﻢ ﻳﻨﺼﺮﻑ ﻭﻻ ﻳﻘﻒ ” ﻗﺎﻝ اﻟﺰﻫﺮﻱ: ﺳﻤﻌﺖ ﺳﺎﻟﻤﺎ، ﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻤﺜﻞ ﻫﺬا ﻭﻛﺎﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﻔﻌﻞ ﻣﺜﻞ ﻫﺬا
مسند أحمد بن حنبل :(6404) سنده صحيح

دراصل یہ حدیث اوپر صحیح البخاری کے حوالے سے گزر چکی ہے۔

(7) ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻗﺎﻝ: ﺟﺎء اﻟﻄﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺪﻭﺳﻲ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻥ ﺩﻭﺳﺎ ﻗﺪ ﻋﺼﺖ ﻭﺃﺑﺖ، ﻓﺎﺩﻉ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻬﻢ. ﻓﺎﺳﺘﻘﺒﻞ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ اﻟﻘﺒﻠﺔ، ﻭﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ، ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻨﺎﺱ: ﻫﻠﻜﻮا. ﻓﻘﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﻫﺪ ﺩﻭﺳﺎ ﻭاﺋﺖ ﺑﻬﻢ، اﻟﻠﻬﻢ اﻫﺪ ﺩﻭﺳﺎ ﻭاﺋﺖ ﺑﻬﻢ
مسند احمد :(7315) صحيح
، ﻗﺎﻝ: ﺛﻢ ﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﺇﻟﻰ اﻟﺴﻤﺎء ﻓﻘﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ اﺷﻬﺪ ﻋﻠﻴﻬﻢ، اﻟﻠﻬﻢ اﺷﻬﺪ ﻋﻠﻴﻬﻢ ” ﺫﻛﺮ ﻣﺮاﺭا ﻓﻼ ﺃﺩﺭﻱ ﻛﻢ ﺫﻛﺮ
مسند احمد :(20336)
(8) ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻲ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺄﺳﻴﺮ، ﻓﻠﻬﻮﺕ ﻋﻨﻪ، ﻓﺬﻫﺐ، ﻓﺠﺎء اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﻓﻌﻞ اﻷﺳﻴﺮ؟ ﻗﺎﻟﺖ: ﻟﻬﻮﺕ ﻋﻨﻪ ﻣﻊ اﻟﻨﺴﻮﺓ ﻓﺨﺮﺝ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﻟﻚ ﻗﻄﻊ اﻟﻠﻪ ﻳﺪﻙ، ﺃﻭ ﻳﺪﻳﻚ ، ﻓﺨﺮﺝ، ﻓﺂﺫﻥ ﺑﻪ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻄﻠﺒﻮﻩ، ﻓﺠﺎءﻭا ﺑﻪ، ﻓﺪﺧﻞ ﻋﻠﻲ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﻗﻠﺐ ﻳﺪﻱ ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﻟﻚ، ﺃﺟﻨﻨﺖ؟ ﻗﻠﺖ: ﺩﻋﻮﺕ ﻋﻠﻲ، ﻓﺄﻧﺎ ﺃﻗﻠﺐ ﻳﺪﻱ، ﺃﻧﻈﺮ ﺃﻳﻬﻤﺎ ﻳﻘﻄﻌﺎﻥ، ﻓﺤﻤﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺃﺛﻨﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻭﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﻣﺪا، ﻭﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺑﺸﺮ، ﺃﻏﻀﺐ ﻛﻤﺎ ﻳﻐﻀﺐاﻟﺒﺸﺮ، ﻓﺄﻳﻤﺎ ﻣﺆﻣﻦ، ﺃﻭ ﻣﺆﻣﻨﺔ، ﺩﻋﻮﺕ ﻋﻠﻴﻪ، ﻓﺎﺟﻌﻠﻪ ﻟﻪ ﺯﻛﺎﺓ ﻭﻃﻬﻮﺭا
مسند احمد:(24259) صحيح
(9)ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺴﺪﺩ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻙ ﺑﻦ ﺣﺮﺏ ﻋﻦ ﻋﻜﺮﻣﺔ ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺯﻋﻢ ﺃﻧﻪ ﺳﻤﻊ ﻣﻨﻬﺎ ﺃﻧﻬﺎ ﺭﺃﺕ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻳﺪﻋﻮ ﺭاﻓﻌﺎ ﻳﺪﻳﻪ ﻳﻘﻮﻝ: «ﺇﻧﻤﺎ ﺃﻧﺎ ﺑﺸﺮ ﻓﻼ ﺗﻌﺎﻗﺒﻨﻲ ﺃﻳﻤﺎ ﺭﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﺁﺫﻳﺘﻪ ﺃﻭ ﺷﺘﻤﺘﻪ ﻓﻼ ﺗﻌﺎﻗﺒﻨﻲ ﻓﻴﻪ
جزء رفع اليدين:(85) سنده حسن لذاته
(10) ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ، ﺃﻧﻬﺎ ﻗﺎﻟﺖ: ﺧﺮﺝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺫاﺕ ﻟﻴﻠﺔ، ﻓﺄﺭﺳﻠﺖ ﺑﺮﻳﺮﺓ ﻓﻲ ﺃﺛﺮﻩ، ﻟﺘﻨﻈﺮ ﺃﻳﻦ ﺫﻫﺐ، ﻗﺎﻟﺖ: ﻓﺴﻠﻚ ﻧﺤﻮ ﺑﻘﻴﻊ اﻟﻐﺮﻗﺪ، ﻓﻮﻗﻒ ﻓﻲ ﺃﺩﻧﻰ اﻟﺒﻘﻴﻊ، ﺛﻢ ﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ، ﺛﻢ اﻧﺼﺮﻑ ﻓﺮﺟﻌﺖ ﺇﻟﻲ ﺑﺮﻳﺮﺓ، ﻓﺄﺧﺒﺮﺗﻨﻲ، ﻓﻠﻤﺎ ﺃﺻﺒﺤﺖ ﺳﺄﻟﺘﻪ، ﻓﻘﻠﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺃﻳﻦ ﺧﺮﺟﺖ اﻟﻠﻴﻠﺔ؟ ﻗﺎﻝ: ﺑﻌﺜﺖ ﺇﻟﻰ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻘﻴﻊ ﻷﺻﻠﻲ ﻋﻠﻴﻬﻢ
مسند احمد:(24612) سنده حسن لذاته

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں:

ﺣﺘﻰ ﺟﺎء اﻟﺒﻘﻴﻊ ﻓﻘﺎﻡ، ﻓﺄﻃﺎﻝ اﻟﻘﻴﺎﻡ، ﺛﻢ ﺭﻓﻊ ﻳﺪﻳﻪ ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻥ ﺭﺑﻚ ﻳﺄﻣﺮﻙ ﺃﻥ ﺗﺄﺗﻲ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻘﻴﻊ ﻓﺘﺴﺘﻐﻔﺮ ﻟﻬﻢ ، ﻗﺎﻟﺖ: ﻗﻠﺖ: ﻛﻴﻒ ﺃﻗﻮﻝ ﻟﻬﻢ ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ؟ ﻗﺎﻝ ” ﻗﻮﻟﻲ: اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺃﻫﻞ اﻟﺪﻳﺎﺭ ﻣﻦ اﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻭاﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ، ﻭﻳﺮﺣﻢ اﻟﻠﻪ اﻟﻤﺴﺘﻘﺪﻣﻴﻦ ﻣﻨﺎ ﻭاﻟﻤﺴﺘﺄﺧﺮﻳﻦ، ﻭﺇﻧﺎ ﺇﻥ ﺷﺎء اﻟﻠﻪ ﺑﻜﻢ للاﺣﻘﻮﻥ

ان صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قبرستان میں اور غیر قبرستان میں ہاتھ اٹھا کر میت اور اپنے لیے دعا کرنا جائز ہے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بہتر وافضل ہے ۔البتہ اس سے مروجہ پھوڑی پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت نہیں بلکہ بدعت ہے اسی کی مثل دوسرے خاص مواقع ہیں.
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ