سوال 7376

ایسی حدیث ہے جس میں ایک ہی روایت میں درود کے سوال میں “أهل البيت” اور جواب میں “وأزواجه وذريته” دونوں الفاظ اکٹھے ہوں؟

جواب

و علیکم السلام و رحمة الله و برکاته صحیح البخاري میں یہ درود منقول ہے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبردی کہ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

[صحیح البخاري حدیث نمبر : 6360]
شاید جس روایت کی آپ بات کر رہے ہیں وہ یہ ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا جی چاہتا ہے کہ اسے اس کی میزان خوب بھری ہوئی ملے تو چاہیے کہ جب ہم اہل بیت پر صلاۃ (درود) پڑھے تو یوں کہا کرے:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

[سنن ابي داؤد حدیث نمبر : 982]
سند ضعیف ہے۔
ازواج مطہرات کا اھل البیت میں سے ہونا، واضح اور مبین دلیل سے ثابت ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ