سوال 7560

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک معتمر نے عمرہ کے باقی تمام ارکان مکمل کر لیے۔ بال کاٹتے وقت کسی کے کہنے پر یا خود سے چاروں اطراف سے صرف چار پانچ جگہ قینچی سے تھوڑے تھوڑے بال کاٹے، پھر احرام کھول کر جدہ واپس چلا گیا۔
کیا اس صورت میں اس کا عمرہ ادا ہو گیا ہے؟ اور کیا احرام کھولنا درست تھا؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عمرہ کے بعد قصر اور حلق دونوں ہی شریعت میں مشروع ہیں، اور حلق، قصر سے افضل ہے۔
جہاں تک قصر کی بات ہے کہ قصر کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ تو صحیح بات یہی ہے کہ سارے بال کاٹنے چاہئیں، خواہ تھوڑے کاٹیں یا زیادہ، لیکن سارے بال کاٹنے چاہئیں۔
البتہ جو صورت آپ نے بتائی ہے، اس میں اگرچہ اس نے سارے بال نہیں کاٹے ہوں گے، لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ اس کو کسی نے یہی بتایا ہوگا یا اس کے ذہن میں یہی ہوگا کہ اتنے بال کاٹ لینا بھی کافی ہے۔ تو اس صورت میں یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کا عمرہ وغیرہ ہو جائے گا، اور اپنی طرف سے اس نے کم از کم اس فرض کی ادائیگی کر لی ہوئی ہے۔ لہٰذا اس قسم کی صورت میں اس کے اوپر دم وغیرہ نہیں ہے۔
البتہ آئندہ اسے سمجھا دیا جائے کہ بال سارے کٹوانے چاہئیں۔
واللہ اعلم۔ یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔
کیونکہ اگر یہ صورت ہوتی کہ اس نے بال کاٹے ہی نہ ہوتے تو پھر اسے کہا جاتا کہ ابھی فوراً احرام کی پابندیاں واپس اختیار کریں اور جا کر بال کٹوائیں۔
لیکن یہاں اس نے بال کاٹے بھی ہیں، اگرچہ کم کاٹے ہیں، تو میرا خیال ہے کہ اس کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بس سمجھا دیا جائے کہ آئندہ آپ نے اس طرح نہیں کرنا۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم نے جواب دے دیا ہے۔ البتہ ہماری دانست میں یہ جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ جہاں موجود ہے اگر اس نے ممنوعات اور محظورات احرام کا ارتکاب نہیں کیا جہاں بھی موجود ہے تو وہ دو بغیر سلے وہی احرام کے کپڑے لے لے اور اس کے بعد وہ حلق یا پورا جو قصر ہے وہ کروا لے ان شاء اللہ اس کا عمرہ درست ہو جائے گا جس جگہ بھی وہ موجود ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ