سوال 7559

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ہم دو چار دوست مل کر کپڑے کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ فیصل آباد میں ایک شخص سے رابطہ ہوا ہے جو بریزے اور ایک دوسری کمپنی کے نام سے کپڑے کے سیمپل ہمیں بھیجنا چاہتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ کپڑا متعلقہ کمپنی کا تیار کردہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ خود سے کپڑا تیار کروا کر اسی کمپنی کا نام اور برانڈ استعمال کرکے ہمیں دے گا، اور پاکستان میں اس طرح کا کاروبار عام طور پر ہو رہا ہے۔
مثلاً گل احمد کی کمپنی کا اصل کپڑا الگ ہے، لیکن کوئی دوسرا شخص اسی طرز کا یا کوئی اور کپڑا تیار کرکے اس پر گل احمد کا نام پرنٹ کروا کر فروخت کرے، تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟
کیا اس طرح کا کاروبار کرنا، ایسے شخص کے ساتھ پارٹنرشپ کرنا یا اس کے مال کو خرید کر فروخت کرنا جائز ہے؟ کیا یہ ملاوٹ، دھوکا یا جعل سازی کے زمرے میں آئے گا؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی علیہ السلام نے فرمایا:

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»

جس نے ہمیں دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بحث سے منع فرمایا ہے۔ تو بالکل واضح ہے، دو ٹوک ہے۔
اور سائل خود بھی بتا رہے ہیں کہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نام کسی اور کمپنی کا ہے، فیبرک اس کمپنی کا نہیں ہے، لیکن کمپنی کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ تو ایسے لوگوں کا دست و بازو نہیں بننا چاہیے۔

﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾

یہ جو برانڈڈ چیزیں ہیں، یہ نام اور حقوق کی بحث ہے۔ چاہے یہ کتابوں کا معاملہ ہو، کپڑوں کا ہو یا کوئی اور چیز ہو، جو نام باقاعدہ جس کا ہے، وہی اس کو استعمال کرنے کا حقدار ہے۔
کوئی دوسرا شخص اس نام کو استعمال کرے گا تو یہ خیانت اور دھوکہ دہی ہے۔ لہٰذا اس طرح کسی دوسرے کے برانڈ کا نام استعمال کرکے مال تیار کرنا یا فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ