سوال 7562
پنجاب حکومت کی CM E-Bike / Bike Scheme 2026 کے لیے آن لائن درخواستیں 5 ستمبر 2026 سے شروع ہو چکی ہیں۔
اس سکیم کے حوالے سے درج ذیل معلومات درکار ہیں:
اہلیت:
عمر کم از کم 18 سال ہو، پنجاب کا ڈومیسائل ہو، پنجاب کے کسی سرکاری یا نجی کالج، یونیورسٹی یا HEC سے منظور شدہ ادارے کا ریگولر طالب علم ہو، اور موٹر سائیکل کا لائسنس یا لرنر پرمٹ موجود ہو۔ ایک خاندان سے صرف ایک بائیک دی جائے گی۔ خواتین، دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے طلبہ کو ترجیح دی جائے گی۔
سکیم کی تفصیل:
بائیک کی قیمت 1,99,000 روپے ہے، جس میں سے طالب علم کو 1,09,000 روپے 36 ماہ کی اقساط میں ادا کرنے ہوں گے۔ حکومت انشورنس، مارک اپ اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گی، جبکہ ڈاؤن پیمنٹ بھی ختم کر دی گئی ہے۔ کامیاب طلبہ کو ہیلمٹ، سیفٹی راڈ اور دو دن کی مفت رائیڈنگ ٹریننگ بھی دی جائے گی۔
درخواست دینے کا طریقہ:
درخواست صرف bikes.punjab.gov.pk پر آن لائن جمع کرائی جائے گی۔ CNIC، طالب علم کی تفصیلات، موبائل نمبر/ای میل اور مطلوبہ دستاویزات فراہم کرکے درخواست جمع کروانی ہوگی۔ تصدیق کے بعد کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہوگی اور پورٹل سے درخواست کا اسٹیٹس چیک کیا جا سکے گا۔
وہاڑی کے حوالے سے:
کیا وہاڑی کے رہائشی بھی موجودہ مرحلے میں اس سکیم کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں؟ اور کیا موجودہ فیز میں وہاڑی ضلع شامل ہے یا بعد کے کسی مرحلے میں شامل کیا جائے گا؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام راہ نمائی فرمائیں کہ اس میں سود وغیرہ تو نہیں ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بظاہر جو کچھ اس میں بیان کیا جا رہا ہے، اس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ اس میں سود کا کوئی عمل دخل ہو۔ میں نے ان کی بظاہر جو ویب سائٹ دی گئی ہے، bikes.punjab.gov.pk، اس پر بھی جا کر دیکھا ہے، مجھے ایسی کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی۔
واللہ اعلم، اس میں تقریباً 90 ہزار روپے کی سبسڈی ہے جو پنجاب حکومت دے گی۔ باقی 1 لاکھ 9 ہزار روپے ہیں، جو 36 مہینے کی قسطوں میں ادا کرنے ہیں۔ اس میں تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
جائز ہے، بالکل لینی چاہیے۔ اگر کوئی لے سکتا ہے تو اس میں کیا ایشو ہے؟
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
“اگر” حقیقتاً اس میں سود اور انشورنس حکومت دے گی تب بھی یہ جائز نہیں، کیونکہ سود میں تعاون ہے، نیز کوئی کسی کی طرف سے سود ادا کردے، اس سے وہ جائز نہیں ہوجائے گی، بلکہ سود میں ہمہ قسم کا تعاون بھی جائز نہیں ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، یہ معاملہ لکھنے والے پر اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت بھیجی ہے اور فرمایا، یہ سب برابر ہیں۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 4093)
(نیز سورۃ المائدہ آیت نمبر : 2 دیکھیں)
نیز انشورنس بھی حرام ہے، دینی اصولوں کے مطابق، جتنی بھی انشورنس کمپنیاں موجود ہیں، ان سب کا کاروبار سود پر مبنی ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر ان کمپنیوں کا کاروبار بھی جائز نہیں ہے۔ ان کمپنیوں میں ملازمت کرنا بھی جائز نہیں ہے زندگی وغیرہ کا بیمہ کروانا بھی شرعی طور پر ناجائز ہے۔
انشورنس میں سود اس اعتبار سے ہے کہ حادثہ کی صورت میں جمع شدہ رقم سے زائد رقم ملتی ہے اور سود اللہ رب العالمین سے اعلانِ جنگ اور حرام ہے، اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے اعلان کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر : 278 – 279)
اور زائد رقم سود ہے۔
اور “جوا” اس اعتبار سے ہے کہ بعض صورتوں میں اگر حادثہ وغیرہ نہ ہوتو جمع شدہ رقم بھی واپس نہیں ملتی، انشورنس کمپنی اس رقم کی مالک بن جاتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ
ترجمہ: “اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بتوں کے تھان اور فال کے تیر ناپاک ہیں، شیطانی کاموں میں سے ہیں، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آؤ گے؟”
(سورۃ المائدۃ آیت نمبر : 90-91)
لہٰذا انشورنس اور بیمہ سے ہر صورت بچیں، یہ دو کبیرہ گناہوں، سود اور جوئے کا مجموعہ ہے۔
اس لیے اگر واقعی حقیقتاً اس سکیم میں سود اور انشورنس شامل ہے تو اس سے بچیں، اللہ رب العالمین سے رزق حلال مانگیں۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
مارک اپ سود، انشورنش سود، اب اسے آپ ادا کریں یا آپکی طرف سے کوئی دوسرا رہے گا تو حرام ہی اور اس صورت میں جرم بھی دونوں کر رہے ہیں۔
لہذا جز وقتی فائدہ کے لیے کل وقتی نقصان نہیں کریں۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ




