سوال 7377
السلام علیکم و رحمة اللّٰه و برکاته.
احسن اللّٰه الیکم۔
اہل بدعت کی کتب بیچنے والے کی کمائی حلال ہے یا حرام؟ جیسے کوئی اخوانیوں سروریوں خارجیوں کی کتب بیچے، جیسے اسرار احمد، مودودی، سید قطب، قرضاوی وغیرہ۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
1۔ جن شخصیات کا نام لیا گیا ہے، ان سب کے عقائد و نظریات کے حوالے سے اہل علم کی آراء معروف ہیں، ڈاکٹر اسرار کے علاوہ باقی تینوں شخصیات کی کتابیں پورے عالم اسلام میں سلفی و غیر سلفی اہل علم کی ذاتی و ادارہ جاتی لائبریریوں میں موجود ہیں، بلکہ ایک وقت میں یہ باقاعدہ طبع کروا کر تقسیم بھی کی جاتی تھیں.
لہذا ان کی غلطیوں اور گمراہیوں کی پیروی نہ کی جائے، لیکن کتابوں کو شر محض کہنا یہ درست رویہ نہیں ہے۔
2۔ اہل بدعت کی کتابوں کی خرید و فروخت سے مراد اگر ایسی کتابیں ہیں، جن میں شر کا پہلو غالب ہے، تو ان کی ترویج اور نشر و اشاعت سے گریز کیا جائے گا، لیکن پھر بھی اہل علم کی حد تک ان کتابوں کے لین دین، خرید و فروخت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ اہل علم ایسی کتابوں کو پڑھیں گے، دیکھیں گے، تو ہی ان کی گمراہیوں سے واقف ہوں گے۔
ہمارے علم کی حد تک مذکورۃ الصدر شخصیات کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے، جس کی خرید و فروخت یا نشر واشاعت سے ہی اہل علم نے روکا ہو۔ مولانا مودودی کی خلافت و ملوکیت بدنام زمانہ اور گمراہیوں کا پلندہ کتاب ہے۔ لیکن ہم نے اس حوالے سے بھی کبھی نہیں سنا کہ اہل علم نے اس کی خرید و فروخت کو ہی حرام قرار دے دیا ہو۔
3۔ کتاب فروش یا کتابوں کے کاروبار کرنے والے شخص کی کمائی حلال ہے، اگر اس میں کوئی غیر مشروع طریقہ نہ اپنایا جائے.
محض کسی کتاب پر اعتراضات و انتقادات کی بنیاد پر ان مکتبات کی کمائی کو ہی غیر مشروع یا حرام سمجھنا یہ غیر ضروری تشدد و تنطع ہے.
بالخصوص جتنے بھی سلفی مکتبات ہیں، وہاں اگر اس قسم کی کتابیں فروخت بھی کی جاتی ہیں، تو یہ ان کتابوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جو بالکل صحیح منہج کے مطابق ہیں۔ حکم اکثریت و اغلب کے لیے ہوتا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ


